جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

5 سالہ عظمیٰ کلیری کے مقدمہ قتل میں مقتولہ کی ممانی کو گرفتار کر لیاگیا،آلہ قتل چھری بھی برآمد ،قتل کیوں کیا؟انتہائی افسوسناک وجہ سامنے آگئی

datetime 14  اپریل‬‮  2018 |

حیدرآباد(این این آئی)حیدرآباد پویس نے 5 سالہ عظمیٰ کلیری کے مقدمہ قتل میں مقتولہ کی ممانی کو گرفتار کر لیا، پولیس کے مطابق ملزمہ شیر بانو کی نشاندہی پر آلہ قتل چھری بھی برآمد کر لی گئی ہے۔ایس پی سٹی زاہدہ پروین جامڑو نے پولیس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ ماہ 12 مارچ کو ممتاز کلیری نامی شخص نے ہوسڑی تھانہ پر رپورٹ درج کرائی تھی کہ اس کی 5 سالہ کمسن بیٹی عظمیٰ کلیری 9 مارچ سے گھر سے لا پتہ ہے بہت ڈھونڈنے کے باوجود اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے،

انہوں نے بتایا کہ ایس ایس پی حیدرآباد نے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی ہوسڑی دوست محمد اور ایس ایچ او ہوسڑی ذوالفقار چاچڑکو واقعہ کی تحقیقات کر کے بچی کی فوری بازیابی کا حکم دیا جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر بچی کے والد ممتاز کلیری اور ان کے رشتہ داروں سے تفصیلات حاصل کیں اور بچی کی تلاش شروع کی، انہوں نے بتایا کہ دوران تفتیش پولیس کو اطلاع ملی کہ 2 خواتین جو پھلیلی واہ کے قریب لکڑیاں کاٹ رہی تھیں انہیں زمین میں دبے ہوئے کسی بچے کے پاؤں نظر آئے ہیں جس پر پولیس بمعہ فارنسک لیب اسٹاف وہاں پہنچی اور بچی کے والد اور رشتہ داروں کو بھی وہاں بلایا جنہوں نے بچی کے کپڑوں سے اسے شناخت کر لیا کہ یہ عظمیٰ کلیری کی لاش ہے، بچی کی لاش کو ابتدائی تفتیشی عمل اور شواہد جمع کر کے پوسٹ مارٹم و ضروری کاروائی کے لئے سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا، ایس پی سٹی نے بتایا کہ دوران تفتیش پولیس کو ایک خاتون مشکوک نظرآئی جب تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا اور بچی عظمیٰ کلیری کی ممانی شیر بانو عرف شیرو زوجہ غلام حیدرکلیری سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے انکشاف کیا کہ اس نے خاندانی جھگڑے میں بدلہ لینے کے لئے بچی عظمیٰ کلیری کو پھلیلی واہ کے قریب لے جاکر چھری سے اس کا گلہ کاٹا اور اس کی لاش قریب ہی موجود ایک گڑھے میں ڈال کر اوپر سے مٹی ڈال دی، انہوں نے بتایا کہ عظمیٰ کلیری کی ممانی شیر بانو کو گرفتار کرکے اس کی نشاندہی پر آلہ قتل چھری بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…