جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

چیچہ وطنی بچی زیادتی کیس،ڈی این اے رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات

datetime 14  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) چیچہ وطنی بچی زیادتی کیس میں پولیس نے واقعے کو حادثہ قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس نے نورفاطمہ کی ڈی این اے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کراتے ہوئے بچی کے قتل کو حادثہ قرار دے دیا۔ پولیس نے بتایا ہے کہ شواہد کے مطابق چیچہ وطنی میں قتل ہونے والی کم سن بچی نورفاطمہ سے زیادتی نہیں ہوئی،

ڈی این اے رپورٹ میں بھی زیادتی کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے، وزیراعلی پنجاب کی تشکیل کردہ خصوصی ٹیم کی تحقیقات میں بھی یہی نتائج سامنے آئے ہیں، نور فاطمہ کو زیادتی کے بعد زندہ جلا دینے کا الزام غلط ہے۔رپورٹ کے مطابق تحقیقات سے پتہ چلا کہ نور فاطمہ گھر سے 10 روپے لے کر نکلی، اس نے قریبی دکان سے پٹاخوں کا پیکٹ اور تین ٹافیاں خریدیں، پانچ سے 7 منٹ بعد نورفاطمہ گھر کے پاس چِلاتی پائی گئی، واقعہ کے بعد 19 لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، نورفاطمہ کے کپڑوں اور جوتوں کی کیمیکل رپورٹ کا انتظار ہے، یقین دلاتے ہیں کہ معاملے کی میرٹ پر تحقیقات مکمل ہوگی۔واضح رہے کہ 7 اپریل کو چیچہ وطنی کی 8 سالہ نور فاطمہ کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی تھی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…