جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف کے بعد پرویز مشرف کو بھی پارٹی صدارت سے ہٹانے کیلئے درخواست۔۔لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا

datetime 14  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر جنرل(ر)پرویز مشرف کو ان کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی صدارت سے ہٹانے کیلئے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔ پرویز مشرف کو نا اہل قرار دلوانے کیلئے مقامی وکیل محمد آفاق نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے

تحت پرویز مشرف کو 2013 کے انتخابات میں نااہل قرار دیا گیا اور نااہل قرار دیئے جانیوالا شخص پارٹی صدر نہیں بن سکتا۔ نواز شریف کو بھی نااہل ہونے پر پارٹی صدارت سے ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے، اسلئے پرویز مشرف کے پاس بھی آل پاکستان مسلم لیگ کی صدارت پر فائز رہنے کا کوئی قانونی جواز نہیں۔ عدالت سے استدعا ہے پرویز مشرف کو آل مسلم لیگ کی صدارت کے عہدے سے نا اہل قرار دیا جائے۔جسٹس شاہد کریم نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اسے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کیونکہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں اور نہ ہی اس نے متعلقہ فورم سے رجوع کیا ہے لہٰذا عدالت درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کرتی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ میں پرویز مشرف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کیلئے دائر درخواست پر جسٹس شاہد کریم نے پرویز مشرف کوپارٹی صدارت سے ہٹانے کیلئے دائر درخواست پر مشرف کی نااہلی کا عدالتی حکم نامہ طلب کیا تھا۔ انتخابی اصلاحات ایکٹ2017 کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف پارٹی صدارت کیلئے بھی نا اہل ہو چکے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے پرویز مشرف کے خلاف بھی لاہور ہائیکورٹ میں نااہلی کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ

سپریم کورٹ کے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017سے متعلق آج 51صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی جاری کر دیا گیا ہے جو کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے خود تحریر کیا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…