اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

” اس وقت تک یہیں کھڑے رہوگے جب تک۔۔۔“چیف جسٹس نے عدالت میں خواجہ سعد رفیق کو بیٹھنے سے بھی منع کردیا، کھری کھری سنادیں

datetime 14  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی کلاس لے لی، دونوں کے درمیان جملوں کا تبادلہ۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ریلوے میں خسارے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی

عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وفاقی وزیر ریلوے کو روسٹرم پر بلاتے ہوئے کہا کہ سعد رفیق صاحب روسٹرم پر آئیں اور لوہے کے چنے بھی ساتھ لے کر آئیں۔ چیف جسٹس کا اشارہ خواجہ سعد رفیق کی ایک تقریر کی جانب تھا جس میں انہوں نے لوہے کے چنے چبوانے کا حوالہ دیا تھا۔ اس پر سعد رفیق نے کہا کہ یہ بیان آپ کے لیے نہیں تھا ،سیاسی مخالفین کے لیے تھا ،آپ نے مجھے یاد کیا تھا۔خواجہ سعد رفیق کی اس بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے یاد نہیں سمن کیا تھا ، ابھی آپ کی ساری تقریروں اور خسارے کا ریکارڈ منگواتے ہیں ،بتائیں ابھی ریلوے میں کتنا خسارہ ہوا؟۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ وہ وقت چلا گیا جب عدالتوں کا احترام نہیں کیا جاتا تھا ۔اس موقع پر خواجہ سعد رفیق نے بولنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بولنے کی اجازت دے دی جائے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے اتنا جارحانہ انداز نہ اپنائیں،سعد رفیق نے کہا کہ جارحانہ انداز نہیں اپنا رہا ،موقف دینے کی کوشش کر رہا ہوں،آپ ہمارے بھی چیف جسٹس ہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک عدالت نہیں کہے گی ،آپ چپ رہیں گے،اس پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کیا پھر میں بیٹھ جاؤں،اگر مجھے سننا نہیں ہے تو پھر میں چلاجاتا ہوں ؟اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک ہم کہیں گے آپ یہیں کھڑے رہیں گے ۔خواجہ سعد رفیق کے چلے جانے کاکہنے پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چلے جائیں ہم توہین عدالت کی کارروائی کریں گے ،آپ کی نیت جانتے ہیں ہمیں پتہ ہے آپ کس نیت سے آئے ہیں ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…