اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کے وہ علاقے جہاں پن چکی سے 50گیگا واٹ بجلی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن ۔۔۔! افسوسناک انکشافات

datetime 13  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آبا(آن لائن ) انٹرنیشنل رینیویبل انرجی ایجنسی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی حاصل کرنے کے ذرائع کی صورتحال اور طلب کے باعث پاکستان میں متبادل توانائی کی بہترین صلاحیت موجود ہے لیکن اس توانائی کا حصول حکومتی اہداف میں شامل نہیں۔ ابو ظہبی سے تعلق رکھنے والی ایجنسی نے پاکستان کے شعبہ توانائی کا جامع تجزیہ کرنے کے بعد کہا کہ پاکستان میں سستی اور متبادل توانائی کے فروغ کے لیے سرمایہ کاروں کو سیاسی طور پر مطمئن کرنے کی ضرورت ہے اور توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔

رینیویبل ریڈنیس اسسمنٹ کے مطابق اس سلسلے میں مخصوص اقدامات اٹھا کر واضح اہداف مقرر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بہتر میعار اور قوانین کے مطابق متبادل توانائی حاصل کی جائے۔آئی آر ای این اے کی رپورٹ کے مطابق متبادل توانائی کے معیار، حصول اور تقسیم کے مضبوط اہداف مقرر کرنے کیے پارلیمنٹ سے ایک ایکٹ منظور کرایا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کو اس بات کا اطمینان ہو کہ بدلتی سیاسی صورتحال میں وہ متاثر نہیں ہوں گے۔واضح رہے پاکستان میں وسیع پیمانے پر پانی سے بنائی گئی بجلی متبادل توانائی کے طور پر عرصے سے استعمال کی جارہی ہے، ان گرڈ اسٹیشنز سے 7.1 گیگا واٹ بجلی حاصل کی جاسکتی ہے، جو ملکی پیداوار کا ایک تہائی حصہ ہے جبکہ آئی آر ای این اے کے تجزیے کے مطابق ملک میں معاشی اور تکنیکی طور پر 60 گیگا واٹ بجلی بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے علاقوں میں پن چکی سے 50 گیگا واٹ توانائی حاصل کی جاسکتی ہے اس کے ساتھ ساتھ ہر سال پیدا ہونے والے ڈھائی کروڑ ٹن صنعتی اور ذرعی فضلے کو بھی توانائی کے حصول کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔آئی آر ای این اے کے ڈائریکٹر جنرل عدنان امین نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں توانائی کی طلب میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے، اور پاکستان کے پاس سورج کی روشنی، پانی اور ہوا سے بجلی بنانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہیں، جو سستی بھی ہے۔

ان کا کہا تھا کہ اس سے توانائی کی بہتر فراہمی سے روزگار میں اضافہ ہوگا جبکہ ملک میں استحکام آئے گا اور پاکستان توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہوجائے گا۔توانائی کے وفاقی وزیر اویس احمد خان لغاری نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ 2013 کے مقابلے میں سال 2018 میں پاکستان میں توانائی کے شعبے میں متبادل توانائی کی صلاحیت 0.2 فیصد سے بڑھ کر 5.2 فیصد ہوگئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے متبادل توانائی کے مسلسل بڑھتی ہوئی طلب کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس میں پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانا، سرمایہ کاری کا فروغ اور قوانین میں اصلاحات شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…