جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے وہ علاقے جہاں پن چکی سے 50گیگا واٹ بجلی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن ۔۔۔! افسوسناک انکشافات

datetime 13  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آبا(آن لائن ) انٹرنیشنل رینیویبل انرجی ایجنسی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی حاصل کرنے کے ذرائع کی صورتحال اور طلب کے باعث پاکستان میں متبادل توانائی کی بہترین صلاحیت موجود ہے لیکن اس توانائی کا حصول حکومتی اہداف میں شامل نہیں۔ ابو ظہبی سے تعلق رکھنے والی ایجنسی نے پاکستان کے شعبہ توانائی کا جامع تجزیہ کرنے کے بعد کہا کہ پاکستان میں سستی اور متبادل توانائی کے فروغ کے لیے سرمایہ کاروں کو سیاسی طور پر مطمئن کرنے کی ضرورت ہے اور توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔

رینیویبل ریڈنیس اسسمنٹ کے مطابق اس سلسلے میں مخصوص اقدامات اٹھا کر واضح اہداف مقرر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بہتر میعار اور قوانین کے مطابق متبادل توانائی حاصل کی جائے۔آئی آر ای این اے کی رپورٹ کے مطابق متبادل توانائی کے معیار، حصول اور تقسیم کے مضبوط اہداف مقرر کرنے کیے پارلیمنٹ سے ایک ایکٹ منظور کرایا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کو اس بات کا اطمینان ہو کہ بدلتی سیاسی صورتحال میں وہ متاثر نہیں ہوں گے۔واضح رہے پاکستان میں وسیع پیمانے پر پانی سے بنائی گئی بجلی متبادل توانائی کے طور پر عرصے سے استعمال کی جارہی ہے، ان گرڈ اسٹیشنز سے 7.1 گیگا واٹ بجلی حاصل کی جاسکتی ہے، جو ملکی پیداوار کا ایک تہائی حصہ ہے جبکہ آئی آر ای این اے کے تجزیے کے مطابق ملک میں معاشی اور تکنیکی طور پر 60 گیگا واٹ بجلی بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے علاقوں میں پن چکی سے 50 گیگا واٹ توانائی حاصل کی جاسکتی ہے اس کے ساتھ ساتھ ہر سال پیدا ہونے والے ڈھائی کروڑ ٹن صنعتی اور ذرعی فضلے کو بھی توانائی کے حصول کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔آئی آر ای این اے کے ڈائریکٹر جنرل عدنان امین نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں توانائی کی طلب میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے، اور پاکستان کے پاس سورج کی روشنی، پانی اور ہوا سے بجلی بنانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہیں، جو سستی بھی ہے۔

ان کا کہا تھا کہ اس سے توانائی کی بہتر فراہمی سے روزگار میں اضافہ ہوگا جبکہ ملک میں استحکام آئے گا اور پاکستان توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہوجائے گا۔توانائی کے وفاقی وزیر اویس احمد خان لغاری نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ 2013 کے مقابلے میں سال 2018 میں پاکستان میں توانائی کے شعبے میں متبادل توانائی کی صلاحیت 0.2 فیصد سے بڑھ کر 5.2 فیصد ہوگئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے متبادل توانائی کے مسلسل بڑھتی ہوئی طلب کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس میں پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانا، سرمایہ کاری کا فروغ اور قوانین میں اصلاحات شامل ہیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…