جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کا دفاعی انحصار امریکہ سے روس اور چین کی طرف منتقل ہو رہا ہے،بھارت خوف کا شکار ہے کہ پاکستان کے روس سے تعلقات کیوں بہتر ہو رہے ہیں، وزیر دفاع کی وائس آف امریکہ سے گفتگو

datetime 13  اپریل‬‮  2018 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان اپنی خارجہ اور سیکیورٹی سے متعلق پالیسی پر نظر ثانی کر رہا ہے جس میں زیادہ تنوع ہو گا اور اس کے تحت پاکستان کی مسلح افواج جو تاریخی لحاظ سے اب تک امریکی ساخت کا فوجی سازو سامان استعمال کرتی رہی ہیں اب زیادہ تر چین سے اور آنے والے برسوں میں روس سے اپنی ضرورت کا دفاعی سازو سامان حاصل کریں گی۔

امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ چند برس قبل ہمارا روس کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ ہوا تھا جس پر پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے ہتھیاروں کے ایسے نظام ہیں جن کی پاکستان کی افواج کو ضرورت ہے۔ اس پر ہم بات چیت کر رہے ہیں، لیکن ہمارا جو پارٹنر ملک ہے روس، اس سے ہم نے ابھی تک ایسی کوئی درخواست نہیں کی ہے کہ ہمیں ہتھیاروں کے فلاں نظام چاہیءں جس درخواست کو انہوں نے مسترد کیا ہو۔ بھارتی اخبار اکنامک ٹائمز کی اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہ روس پاکستان کو ہتھیاروں کا نظام دینے کا ارادہ نہیں رکھتا، وزیر دفاع خرم دستگیر کاکہنا تھا کہ اخبار کی خبر درست نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس طرح کی خبریں ہندوستان کی سراسیمگی کو ظاہر کر رہی ہیں کہ پاکستان کے تعلقات روس سے کیوں بہتر ہو رہے ہیں کیونکہ بھارتیوں کا خیال ہے کہ صرف ہندوستان ہی سے روس کے تاریخی طور پر تعلقات ہو سکتے ہیں پاکستانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اس خبر میں کوئی حقیقت ہونے کے بجائے پریشانی اور تشویش کا اظہار زیادہ ہو رہا ہے۔دوسری جانب اس سوال کے جواب میں کہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کے بھارت کے ساتھ پرانے تعلقات ہیں اور وہ اس کے ساتھ مل کر ہتھیاروں کے جدید نظام بنارہا ہے تو وہ پاکستان کو یہ نظام کیوں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجزیے ابھی قبل از وقت ہیں۔ پاکستان نے اب تک روس سے صرف کچھ ہیلی کاپٹر خریدے ہیں جو فراہم بھی ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد سے مسلح افواج کی تینوں شاخوں کی ضروریات پر روس سے تبادلہ خیال ہو رہا ہے اور ہم امید کررہے ہیں کہ عنقریب روس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کا د ورہ کرے گا جس میں پہلی بار ان معاملات پر تفصیلی بات چیت ہو گی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…