ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

کونسے سابق وزیراعظم کے والد کی قبر نہیں مل رہی تھی اور ایک قبر پر راتوں رات کتبہ لگواکر اسے بتایا گیا کہ یہ تمہارے والد کی قبر ہے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 10  اپریل‬‮  2018 |

لاہور (نیوزڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ نوازشریف نے 23 مارچ کو این آر او کی کوشش کی مگر نہیں ہوا،جس دن نوازشریف خاندان نے سچ بولا ان کا سیاست میں آخری دن ہوگا۔انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین سے میں نے بڑی ضد کی ، میں نے وزیراعظم کے فیصلے کے متعلق چوہدری شجاعت سے پوچھا کہ کون ہوگا وزیراعظم؟ تو مجھے سرتاج عزیز فون کرتے دکھائی دیئے انہوں نے کہا کہ آپ کی کمر کا سائز تو میری طرح ہی ہے اس طرح کی اچکن بنوانی ہے،

میں حیران ہوگیا کہ اتنی چھوٹی کمر کا کون ہوسکتاہے کوئی لیڈی پرائم منسٹر تو نہیں آرہی پھر پتہ ملا کہ معین قریشی آرہاہے، وہ بیروت میں بیٹھا کافی پی رہاتھا جب اسے پتہ چلا کر اسے وزیراعظم بنایاجارہاہے، شیخ رشید نے کہا کہ ایک چوہدری صاحب میرے ڈی ایس پی تھے اس نے مجھے کہا کہ شیخ صاحب میں پھنس گیا ہوں، معین قریشی نے اپنے والد کی قبر پر جانا ہے اس کے والد کی قبر نہیں مل رہی، میں نے کہا یہ کون سامسئلہ ہے کسی بھی قبر پر کتبہ لگادو اور کہہ دو کہ آپ کے والد کی قبر ہے، پھر سارے پاکستان نے دکھادیا کہ معین قریشی صاحب والد کی قبر پر فاتحہ خوانی کررہے ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آپ کیا بات کرتے ہیں یہ شوکت عزیز ٹائپ کی سیاست ہے ہم سارے اقتدار کے بھوکے لوگ ہیں، آج اس ملک میں کوئی چوہدری ظہور الٰہی نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی سمیت سب کی ضمانتیں ہوگئیں میں پھنس گیا میرے خلاف شہادت آگئی،انہوں نے کہا کہ میں جب گجرات جیل گیا تو میں نے کہا کہ تو میں نے کہا کہ میں بے گناہ ہوں میں نے بندا نہیں مارا، گجراتی نے مجھے کہا کہ ’’ اے نہ کہاکرو، بے عزتی ہوندی اے، یہ کہا کرو کہ بندہ ماراہے،شیخ رشید کی اس بات پر قہقہے لگ گئے ،انہوں نے کہا کہ اس وقت نوازشریف این آر او کی تلاش میں ہیں،لاہور میں مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے

شیخ رشید نے کہا کہ ماضی میں سیاسی رہنما بحیثیت کارکن کام کرتے تھے، ہم نے خود حق و سچ بولنے کی پاداش میں جیلیں کاٹیں لیکن موجودہ پاکستانی سیاست میں کوئی بھی سیاسی کارکن نہیں بلکہ تمام لوگ ٹکٹوں کے امیدوار ہیں، خاص لوگ رہنما اور عام عوام صرف ٹکٹ دینے کے لئے رہ گئے ہیں جو ایک المیہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب اقتدار کی سیاست کرتے ہیں، کلاشنکوف کیس کے دوران کسی ایم این اے نے میرا ساتھ نہیں دیا، پاکستان کی بات کیا کرنی، یہاں سب معین قریشی ہیں،

وہ بیروت کے ہوٹل میں کافی پی رہے تھے کہ وزیراعظم پاکستان بنا دیئے گئے۔انہوں نے کہا کہ ہم گندا پانی پیتے ہیں، دودھ ملاوٹ والا ملتا ہے، دوائیں بھی جعلی ملتی ہیں، نوجوان بے روزگار ہیں، بجلی و پانی کی شدید قلت ہے اور حکومت ترقی کے راگ الاپ رہی ہے، حکمران جھوٹ بولتے ہیں، جس دن نوازشریف نے سچ بولا اسی دن ان کی سیاست ختم ہوجائے گی۔ شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ

نواز شریف اس وقت این آر او کی تلاش میں بیٹھے ہیں، 23 مارچ کوکوشش کی گئی این آر او ہوجائے مگر نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں نظام عدل بھی سست ہے فیصلے اتنی تاخیر سے آتے ہیں کہ نسلیں ہی تبدیل ہوچکی ہوتی ہیں، نیوز لیکس کی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی جو ملک و قوم کے ساتھ غداری ہے، نئی نسل بغاوت کی جانب بڑھ رہی ہے کیوں کہ ان کے پاس کوئی لیڈر ہی نہیں رہا جس پر یقین کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…