ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

کیا باپ بیٹیوں کو اسی دن کیلئے پالتے ہیں؟۔۔بیٹی نے پسند کی شادی کیلئے سگے باپ کو آشنا کیساتھ مل کر قتل کر ڈالا، قتل کرنےکیلئے کیا دردناک طریقہ اختیار کیا؟ جان کر آپ کے بھی رونگٹے کھڑے ہوجائینگے

datetime 31  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پسندکی شادی کا تنازعہ، بیٹی نے سگے باپ کو قتل کر ڈالا۔ تفصیلات کے لاہور میں قتل کی لرزہ خیز واردات کا ڈراپ سین ہو گیا ہے اور بیٹی نے سگے باپ کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ لاہور کے علاقے فیصل ٹاؤن کے علاقے موچی پورہ میں رہائش پذیر 65 سالہ پرویز اقبال26فروری کو پراسرار طور پر مردہ پایا گیا۔ پرویز اقبال کے اہل خانہ کی جانب سے

اس کی موت کو اتفاقی قرار دیا گیا تھا تاہم اب ایک ماہ کی تفتیش کے بعد پرویز اقبال کی موت قتل ثابت ہو گئی ہے اور پولیس نےتحقیقات کے دوران جب مقتول کی بیٹی سے تفتیش کی تو اس نے سگے باپ کو قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ وہ والٹن روڈ کے رہائشی حسنین اکبر سے پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی مگر اس کا باپ پرویز اقبال رضامند نہیں تھا۔والد کی مخالفت پر اس نے اپنے آشنا کے ساتھ ملکر باپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایااور وقوعہ کے روز اس نے اپنے والد کو نشہ آور گولیاں بڑی تعداد میں دیں تاہم وہ ان سے نہیں مرا جس پر اس نے اپنے آشنا کیساتھ مل کر اپنےو الد کے سر پر لوہے کے راڈ مار مار کر اسے قتل کر دیا جبکہ بعدازاں والد کے سر پر مرہم پٹی کر دی اور مشہور کیا کہ والد کو چوٹ حادثاتی طور پر لگی ۔ سگے باپ کو قتل کرنے والی عائشہ نے اپنے اعترافی بیان میں شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے معافی بھی طلب کی ہے۔دوسری جانب قتل کی اس واردات کے دوسرے کردار لڑکی کے آشنا کے حوالے سے کوئی اطلاعات موصول نہیں ہو سکی ہیں کہ آیا پولیس نے اس کو گرفتار کیا ہے کہ نہیں جبکہ لڑکی کے اہل خانہ کی جانب سے بھی مکمل خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ پرویز اقبال کی موت پر اہل علاقہ بھی افسردہ ہیں جبکہ لوگوں نے بیٹی کی جانب سے باپ کیساتھ اس وحشیانہ سلوک پر غم و غصے کا اظہار بھی کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…