ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

باجوہ ڈاکٹرائن ،سپریم کورٹ اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں،چوہدری نثار نے نواز شریف کو بے نقاب کیا، میرا نثار سے شکوہ یہ ہے کہ وہ ۔۔! عمران خان کا انٹرویو، کھل کر بول پڑے

datetime 27  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں ایک پُتلا وزیراعظم ہے جو سینیٹ کے چیئرمین کو مانتا ہی نہیں، باجوہ ڈاکٹرائن سپریم کورٹ اور جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے، سابق وزیراعظم پاکستان پر خود کش حملے کررہا ہے ، نواز شریف این آر او چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ فوج آجائے پیغام دے رہے ہیں کہ بات ہوسکتی ہے ،انہیں معلوم ہے کہ سزا ہونی ہے، شریف خاندان نے سارے ادارے کنٹرول کئے ہوئے ہیں اس ملک پر چور اور ڈاکو چھا گئے ہیں،

پیپلزپارٹی ون میں شو ہے اتحاد نہیں ہوسکتا ‘ سنجرانی جیسے لوگوں سے اتحاد ہوسکتا ہے ،چوہدری نثار نے نواز شریف کو بے نقاب کیا،نوازشریف اسی بات کا غصہ ہے ، میرا نثار سے شکوہ یہ ہے کہ وہ شہبازشریف کو دوست کہتے ہیں۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں 1970 ء کے علاوہ کوئی بھی انتخابات شفاف نہیں ہوئے۔ 2013 ء میں تمام جماعتوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے ہم نے دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی دھاندلی کرکے آنے والے پیسہ بناتے ہیں انہوں نے کہا کہ ’’تو مان یا نہ مان میں تیرا مہمان‘‘ ملتان والوں کو میٹرو چاہیے یا نہیں۔ہم نے دینی ہے ،میگا پراجیکٹ میں میگا چوری اور کمیشن ہوتا ہے،یہ کام صرف پیسہ بنانے کیلئے ہے ۔ نواز شریف کے بعد اب شہباز شریف کی باری ہے شہباز شریف کا بچنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے جان بوجھ کر مفلوج کئے گئے ہیں اسحاق ڈار کے بیان میں پورے شریف خاندان کے نام ہیں ،نیب کے سربراہ نے ان کی کرپشن چھپائی۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم پاکستان پر خود کش حملے کررہا ہے نواز شریف چاہتے ہیں کہ فوج آجائے وہ اپنی چوری کو بچانے کیلئے ہر سطح پر جاسکتے ہیں۔ نواز شریف کو سزا ہونی چاہیے ، پانامہ کیس میں اہم ترین فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کہتا ہے صاف اور شفاف انتخابات ہوں، باہر کے ممالک میں نگران حکومتیں نہیں آتیں ہم پوری کوشش کریں گے کہ انتخابات نیوٹرل ایمپائر کے نیچے ہوں۔ نگران حکومت کے حوالے سے خورشید شاہ سے ابھی کوئی بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ چاہتا تھا کہ انتخابات قبل از وقت ہوں ان میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ ملک میں اس وقت ایک پُتلا وزیراعظم ہے۔ وزیراعظم کہتے ہیں۔ کہ وہ چیئرمین سینیٹ کو مانتے ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی تمام 22 دستاویزات فراڈ ہیں ،احسن اقبال سب سے بڑا فراڈ ہے اور وہ شکل سے معتبر جھوٹ بولتا ہے۔ ایک سوال پر کہا کہ باجوہ ڈاکٹرائن عدلیہ اور جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے نواز شریف پیغام دے رہے ہیں کہ بات ہوسکتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انہیں کسی طرح این آر او مل جائے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ پکڑا جاتا ہے لیکن اس کا کیس نہیں سنا جاتا، اسحاق ڈار کے بچوں کی دبئی مین اربوں روپے کی جائیدادیں ہیں وزیر خزانہ موجودہ وزیراعظم کے جہاز میں بھاگ رہا ہے ،شریف خاندان نے سارے ادارے کنٹرول کئے ہوئے ہیں اس ملک پر چور اور ڈاکو چھا گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار نے نواز شریف کو ایکسپوز کیا نواز شریف کو اس لئے نثار پر غصہ ہے کہ نثار سے ایک شکوہ ہے کہ وہ شہباز شریف کو اپنا دوست کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومیں پہلے اخلاقی اور پھر معاشی طور پر تباہ ہوتی ہیں ملک کی معیشت تباہ حال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ون مین شو ہے پیپلزپارٹی سے اتحاد کرنا آصف زرداری سے اتحاد کرنا ہے پیپلزپارٹی سے سیاسی اتحاد نہیں کرین گے سنرانی جیسے لوگوں سے اتحاد ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ عامر لیاقت آپ کو برا بھلا کہتے تھے ‘ عامر لیاقت کو خدا نے بولنے کی صلاحیت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان بھی تو انسان ہی ہے ریحام خان کی کتاب سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ (عابد شاہ/نفیس عباسی)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…