جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

معروف عالم دین مولانا محمد اشرف گولڑوی انتقال کر گئے، نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت،عقیدت مند زارو قطار روتے رہے

datetime 27  مارچ‬‮  2018 |

جہانیاں(آئی این پی) جماعت اہلسنت کے معروف عالم دین،جامعہ مسجدجیلانی جہانیاں کے مرکزی خطیب حضرت علامہ مولانا محمد اشرف چشتی گولڑوی انتقال کر گئے جن کی نماز جنازہ جہانیاں گورنمنٹ ہائی سکول میں ادا کی گئی،نمازجنازہ صاحبزادہ سید ارشد سعیدکاظمی شاہ نے پڑھائی نماز جنازہ میں مختلف مکتبہ فکر سے وابستہ شخصیات نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔

مرحوم کی وفات پر چیئرمین میونسپل کمیٹی جہانیاں حاجی عطاء الرحمن ، الحاج حاجی نذیر احمد،ایم پی اے چوہدری کرم داد واہلہ،اہلسنت والجماعت کے مرکزی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں249ملک غلام مرتضیٰ میتلا،آفتاب حسین، شیخ عمران سلیم،محمد آصف جاوید،عبدالمجید رحمانی ،محمد اشفاق جٹ،خالد شیریف گجر، شیخ عبدالرحمن شاہ،پروفیسر جاوید اصغر، افضال حامدی،محمد طارق، نصراللہ سیالوی،عرفان اسلم،چوہدری سرور،محمدعارف سعید ،عامر گل ،محمد لطیف خان خٹک ،شیخ محمد سلیم ،سعید اقبال ،شمس الحق لونگ،محمد شریف ،اشفاق احمد،قاری عابد حسین ،سمیت وکلاء،صحافیوں،علماء کرام،خطیب حضرات ،مشائخ عزام اورسینکڑوں افراد نے تعزیت کا اظہار کیامرحوم مولانا محمد اشرف گولڑوی طویل عرصہ سے جامعہ مسجد جیلانی جہانیاں میں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ تھے ملک بھر میں ان کے شاگردوں کے تعداد ہزاروں میں ہے،وہ بصارت سے محروم ہونے کے باوجود ایک بلند پایہ خطیب،استاذ الحدیث اور بہترین استاد تھے ان کے شاگرد اور عقیدت مند زاروقطار روتے رہے۔ ان کی قرآن خانی جمعرات کو10بجے جامعہ مسجد جیلانی میں ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…