ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف فیصلے اپنے حق میں فیصلہ لینے کیلئے نیب کے جج محمد بشیر کے ساتھ کیا کررہے ہیں؟اعتزاز احسن نے انتہائی سنگین الزامات عائد کردیا

datetime 25  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ نواز شریف فیصلے اپنے حق میں لینے کے لئے نیب کے جج محمد بشیر پر دباؤ ڈال رہے ہیں ، نواز شریف کے لئے اس وقت اسٹبلشمنٹ سے زیادہ نیب جج سے بات کرنا اہم ہے۔شریف برادران آج تک منی ٹریل نہیں پیش کر سکے اور 2 سال ہو گئے ثبوت بھی پیش نہیں کر سکے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ کیسز میں سزا ہو گی اس لئے وہ دیوار توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ممکن ہے کہ نوازشریف امریکہ کے ذریعے ڈیل بھی کر رہے ہیں

کیونکہ ماضی میں وہ کئی بار ڈیل کر چکے ہیں نواز شریف ہمیشہ دوراستوں پر چلتے ہیں خفیہ راستے کے ذریعے سمجھوتے کرتے ہیں جبکہ دوسرا راستہ عوام کے پاس جا کر یقین دلاتے ہیں کہ وہ ڈیل نہیں کر رہے نجی ٹی وی کو دےئے گئے انٹر ویو میں اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ شریف برادران جب مارشل لاء کے بعد سعودی عرب گئے تو انہوں نے ہر بار یہی کہا ہے کہ کوئی سمجھوتہ یا کوئی ڈیل نہیں ہو رہی اور جب میں شریف برادران کا وکیل تھا تو مجھے باقائدہ پیغام دیا گیا کہ آپ جلد از جلد ہمارامقدمہ لڑیں کیونکہ ہم کوئی رعایت دینے کو تیار ہیں نہ لینے کو تیار ہیں اور مجھے بھی پردے میں رکھا تا ہم انہوں نے مجھ پر بڑا اعتماد کیا اور ان کا میرے پاس مقدمے کے لئے آنا میرے اعزاز کی بات تھی تا ہم وہ یہ ضرور چاہتے تھے کہ ان کی جرنل مشرف سے ڈیل کی بات چھپی رہے اور سعودی عرب والے معاہدے کا بھی کسی کو علم نہ ہو ۔ سعودیوں نے ضمانتیں دی تو مشرف نے نواز شریف کے جانے دیا، 10 دسمبر 2000 کو جب یہ لوگ سعودی عرب گئے تو ان کی اخبار میں تصویر یہ لگی کہ نواز شریف جہاز کی سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں اور میرا ساتھ ہیں بیان لگا تھا کہ نواز شریف کا جانا ممکن نہیں ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف سعودی عرب نہ جاتے تو انہیں جیل میں ہی وقت کاٹنا پڑتا تاہم سزائے موت نہیں ہونی تھی سات سے آٹھ سال جیل میں ان کو رہنا پڑتا مگر

یہ تو ایک سال بھی جیل نہ کاٹ سکتے اور نہ اس کے لئے تیار تھے حدیبہ کیس کے بارے سوال پر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اسحاق ڈار دعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں اور ان کا قریبی کردار بھی تھا اور مراسم بھی تھے اور وزیر خزانہ کے طور پر وزارت خزانہ پر ان کا ہاتھ تھا۔ حدیبہ پیپرز کے متعلق اسحاق ڈار کے بیان سے شریفوں کی منی لانڈرنگ واؔ ضح معلوم ہو تی ہے تاہم اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ مجھے ڈرا دھمکا کر بیان لیا گیا تا ہم اس کیس میں منی لانڈرنگ ضرور ہوئی ہو گی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ پیپر ٹریل باہر آنے کے بعد تو اسحاق ڈار کے بیان کو بھی ضرورت نہیں تھی ۔ امریکہ سے ڈیل کے حوالے سے

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا ہے کہ نواز شریف ڈیل کرنے کے لئے دو راستوں پر ضرور چل رہے ہوں گے وہ موجودہ صورتحال میں خفیہ راستے اور عام راستے پر چل رہے ہوں گے اور وہ ڈیل کرنے کے پرانے عادی ہیں اور ڈیل کر بھی سکتے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں نواز خاندان کے اسٹبلشمنٹ سے زیادہ اہم نیب ہے اور وہ نیب اور اس کے جج بشیر پر دباؤ ڈال کر معاملات حق میں کرانے کی کوشش کرینگے اور اس کے لئے وہ مختلف طریقے استعمال کر رہے ہیں پروٹوکول کے ساتھ آنا

اور عدالت میں وزیراعظم کے طرح بیٹھ کر کیس سننا ایسے بیٹھتے ہیں جیسے کوئی دربار لگا ہوا ہوجیسے جسٹس بشیران کاٹیواری ہو اور ججوں کی کردار کشی بھی کر رہے ہیں اور ان پر بیانات کے ذریعے بھی دباؤ ڈالا رہے ہیں اگر سپریم کورٹ کے ججوں کو اگر نواز شریف خاطر میں لاتے تو نیب کا جج کیا محسوس کرے گا ان پر دباؤ تو بڑھے گا مگر عدلیہ نے بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا اوراب نواز شریف چاہتے ہیں کہ

ان کو توہین عدالت پر طلب کیا جائے ایک اور سوال پر اعتزاز نے کہا ہے کہ اندرونی و بیرونی قرضوں کا ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے اور ان کی ترجیح ہسپتال نہیں بلکہ کمیشن والے میگا منصوبے ہیں ایک اور سوال پر انہوں نے کہا ہے کہ نواز شریف آج تک منی ٹریل پیش نہیں کر سکے اور2 سال ہو گئے اور ابھی تک ثبوت بھی پیش نہیں کر سکے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ کیسز میں سزا ہو گی اس لئے وہ دیوار توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…