ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ملک کسی صورت بھی کسی غیر آئینی اقدام کا متحمل نہیں ہو سکتا ،چیف جسٹس کا بیان قوم کی ترجمانی ہے ،رانا ثناء اللہ

datetime 24  مارچ‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ ملک کسی صورت بھی کسی غیر آئینی اقدام کا متحمل نہیں ہو سکتا ،چیف جسٹس کا بیان قوم کی ترجمانی ہے ،عدلیہ کاایسا ادارہ بننا چاہیے جو اس کی ترجمانی کرے بعض لوگ از خود ترجمان بنے ہوئے ہیں ،نوازشریف کو سیاست سے مائنس نہیں کیا جا سکتا ۔ایکسپو سنٹر لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا اور انڈسٹری میں نمبر ون شہر ہے ۔

فیصل آباد کے تاجر بہت کمٹڈ ہیں اور یہ نمائش بہترین کاوش ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کسی صورت بھی کسی غیر آئینی اقدام کا متحمل نہیں ہو سکتا ،چیف جسٹس آف پاکستان کی ملک میں جوڈیشل مارشل لاء کی گنجائش نہیں کی بات قوم کی ترجمانی ہے اور آئین سے بالا اقدام برداشت نہیں کیاجائے کی بات کو قوم نے سراہاہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ڈھائی سال میں ایک مقدمہ میں پیش نہ ہوئے مفرور ہوئے گئے تو ان کے ساتھ سپیشل ٹریٹمنٹ ہوئی ۔عمران خان نے خود سے کہانی گھڑی کہ انہیں دس ارب روپے کی آفر کی گئی،عمران خان کے الزامات پر کیسز کاجلد فیصلہ ہونا چاہیے تاکہ الزام تراشی کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے اور عدلیہ کاایسا ادارہ بننا چاہیے جو اس کی ترجمانی کرے بعض لوگ از خود ترجمان بنے ہوئے ہیں ۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ احتساب عدالت میں نوازشریف کو اگر دوہفتے مل جاتے تو وہ اپنی بیوی کی تیمار داری کرلیتے لیکن افسوس ہے انہیں عدالت میں حاضری کی استثنیٰ نہیں دیا گیا ، یہ رویہ سخت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف عوام میں مقبولیت کے ٹاپ لیول پر ہیں ،ملک کو انفرسٹرکچر اور ڈویلپمنٹ کانام نوازشریف کے ساتھ آ جاتا ہے ،نوازشریف کو سیاست سے مائنس نہیں کیا جا سکتا وہ (ن) لیگ کے قائد ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…