ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ڈبے کے دودھ کا معاملہ،ڈبے پر یہ چیز واضح لکھنا ہو گی ورنہ۔۔ چیف جسٹس نے نجی کمپنیوں کو بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 24  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹریگ ڈیسک)آج سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں فارمولا دودھ کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 2رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ نجی کمپنی کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن عدالت میں پیش ہوئے۔نجی کمپنی کے وکیل اعتزاز احسن نے ڈبے پر دودھ لکھے پر اعتراضات اٹھا دئیے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے استفسار کیا

کہ کیا ہدایت کے مطابق کمپنی نے ڈبے پر واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ دودھ نہیں بلکہ فارمولا دودھ ہے ۔ اعتزاز احسن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈبے پر لکھ دیا ہے کہ یہ 6ماہ سے بڑے بچے کیلئےفارمولا ہے دودھ ہیں۔ڈبے پر یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ماں کا دودھ بچے کیلئے بہترین غذا ہےجس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ڈبے اس پر لکھ دیں کہ یہ قدرتی دودھ نہیں، جب تک واضح طور پر ڈبے پر یہ نہیں لکھیں گے کہ یہ قدرتی دودھ نہیں تب تک ہم اجازت نہیں دینگے۔ چیف جسٹس نے نجی کمپنی کو تین ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ تین ماہ میں لکھ دیں کہ یہ قدرتی دودھ نہیں ہے۔ اس موقع پر نجی کمپنیوں کی جانب سے فارمولا دودھ کا اشتہار بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر نجی کمپنی کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن عدالت میں پیش نہ ہو سکے جبکہ ان کی جگہ ان کے جونیئر وکیل عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ جونیئر وکیل کے نامناسب روئیے پر چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بیرسٹر اعتزاز احسن کی لا فرم کو 10ہزار جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس پر بیرسٹر اعتزاز احسن اور چیف جسٹس کے درمیان مکالمہ بھی ہوا تھا جس پر اعتزاز احسن نے جرمانہ ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔چیف جسٹس کا اس موقع پر کہنا تھا کہ کسی بڑی لا فرم سے تعلق کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت پر دبائو ڈالا جائے اور مرضی مسلط کرنے کی کوشش کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…