جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پاکستان میں پینے کے پانی کا مسئلہ ختم، عوام اب سمندر کا پانی پینے کے لیے استعمال کر سکیں گے، چین نے زبردست منصوبے پر کام کا آغاز کر دیا

datetime 17  مارچ‬‮  2018 |

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) گوادر کے شہریوں کو پینے کا صاف پینے مہیا کرنے کے لیے چین نے ڈی سیلینیشن پلانٹ منصوبے پر کام کا آغاز کردیا ہے، میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ چین نے سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ منصوبے پر کام کا آغاز کر دیا ہے اور اس پلانٹ سے گوادر کے شہریوں کو روزانہ روزانہ ڈھائی لاکھ گیلن پینے کا صاف پانی دیا جائے گا،

چین، وفاقی اورصوبائی حکومت نے مل کر گوادر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے جن کی لاگت اربوں روپے بنتی ہے، ان منصوبوں کے مکمل ہونے پر گوادر میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو جائے گا۔ گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین دوستین جمالدینی نے اس حوالے سے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت گوادر میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے، گوادر کے رہنے والوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے دو ڈیمز کا 80 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے، یہ دو ڈیم سوڑ اور شادی کور ہیں، گوادر تک ان ڈیمز سے پانی پائپ لائنز کے ذریعے لایا جائے گا، انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں پر 4 ارب سے زائد لاگت آئے گی اس کے علاوہ میرانی ڈیم سے پانی کی ترسیل کے لیے فزیبلٹی رپورٹ پر کام ہو رہا ہے اس کے لیے 15کروڑ روپے بھی جاری ہو چکے ہیں میرانی ڈیم کے منصوبے پر 7 سے 8 ارب روپے لاگت آئے گی، انہوں نے مزید بتایا کہ چین نے بھی سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ منصوبے پر کام کا آغاز کر دیا ہے، اس منصوبے سے گوادر کے شہریوں کو ڈھائی لاکھ گیلن پینے کا پانی مہیا کیا جائے گا، گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین دوستین جمالدینی نے بتایا کہ ڈی سیلینیشن پلانٹ لگانے کے لیے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے بھی کام کا آغاز کر دیا ہے اور اس پلانٹ سے بھی گوادر کو دو لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جائے گا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…