ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

لڑائی کے حق میں نہیں ٗ چاہتا ہوں ملک آئین اور قانون کے مطابق چلے ٗ نوازشریف

datetime 15  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد ( این این آئی ) پاکستا ن مسلم لیگ (ن)کے قائد ٗ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہاہے کہ میں لڑائی کے حق میں نہیں ہوں ٗچاہتا ہوں کہ ملک آئین اور قانون کے تحت چلے ٗکیا آئین اور قانون کے مطابق ملک چلانے کی خواہش بری ہے؟ جو کچھ سینیٹ میں ہوا، تماشا پوری قوم نے دیکھا ٗ بلوچستان کے معاملے پر محمود اچکزئی کے بیان کی انکوائری ہونی چاہئے۔

جمعرات کو یہاں احتساب عدالت اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ کیا آئین اور قانون کے مطابق ملک چلانے کی خواہش بری ہے؟ جو کچھ سینیٹ میں ہوا، تماشا پوری قوم نے دیکھا۔انہوں نے کہا کہ وہ نظام لیکر آئیں گے جو ملک کی ضرورت ہے، موجودہ نظام عدل میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے ٗجامع نظام عدل لانے کے لئے کام کر رہے ہیں، انصاف نہ ملنا یا دیر سے ملنا ملک کا بڑا مسئلہ ہے۔نواز شریف نے کہا کہ بہت کچھ دیکھا ہے آدھی زندگی گزر گئی ، تجربات اچھے اور برے ہوتے ہیں ٗ اچھے تجربات سے سیکھنے کو ملتا ہے ، ملک و قوم کیلئے جو اچھا ہو اس سے دل خوش ہوتا ہے ، اچھے اور برے تجربات دیگر سیاستدانوں کے ساتھ بھی ہوئے انْ سے سیکھنا چاہئے۔صحافی کے اس سوال پر کہ اعتزاز احسن نے کہا تھا آپ سازش کرنے والے کا نام لیں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟نواز شریف نے جواب دیا آپ کو لگتا ہے وہ ساتھ کھڑے ہوں گے؟ نواز شریف نے کہا کہ میرے سوا جن سیاستدانوں کے مقدمات ہیں ان پر کرپشن اور کِک بیکس کے الزامات ہیں ، میرا مقدمہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں ایسا کوئی الزام نہیں ۔نواز شریف سے سوال کیا گیا کہ وہ کوئی کتاب لکھیں گے اس پر انہوں نے کہا اپنے تجربات لکھنے چاہئیں ٗ نوازشریف نے کہاکوئی بتائے کہ عمران خان اور آصف زرداری کو سنجرانی ہاؤس کا پتہ کس نے بتایا؟کہا گیا کہ سب سنجرانی ہاؤس پہنچیں ٗوہاں ایک صادق نامی شخص ہے اسے ووٹ دیں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان کے معاملے پر محمود اچکزئی کے بیان کی انکوائری ہونی چاہئے، محمود اچکزئی نے کہا تھا کہ ایک افسر نے بلوچستان حکومت ختم کرائی۔نواز شریف نے اپنی گفتگو کے اختتام پر شعر سنایا’’زندگی اپنی کچھ یوں گزری ہے ٗہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…