اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے دوران سینیٹر رحمان ملک اور سینیٹر شیریں رحمان کی بدحواسیاں، قہقہے لگ گئے، شیریں رحمان دوڑتی مسکراتی پہنچ گئیں

datetime 12  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے اجلاس کے دور ان اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب سینیٹر عبدالرحمان ملک سیکرٹری سینیٹ سے بیلٹ پیپر لے کر پولنگ بوتھ میں جانے کی بجائے لابی کی طرف چلے گئے۔ پیر کو اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک سیکریٹری سینیٹ سے ووٹ لینے کے بعد پولنگ بوتھ کی طرف جانے کی بجائے لابی کی طرف چلے گئے۔

ابھی لابی کا دروازہ کھول کر وہ لابی میں داخل ہو ہی رہے تھے کہ سیکریٹری سینیٹ اور ارکان نے آواز دے کر انہیں بلایا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اسلام الدین شیخ سینیٹر اے رحمان ملک کو لابی کی طرف جاتا دیکھ کر ان کی طرف لپکے اور انہیں بازو سے پکڑ کر لابی کے دروازے سے واپس لے آئے۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس دوران آواز دی کہ لابی میں جانے کی وجہ سے یہ ووٹ کینسل کر دیا جائے۔ سینیٹر اے رحمان ملک کی بوکھلاہٹ پر ایوان میں موجود ارکان مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔اجلاس کے دور ان سینیٹر شیری رحمان کا نام پکارا گیا تو وہ سیکریٹری سینیٹ سے اپنا بیلٹ پیپر لئے بغیر تیزی سے پولنگ بوتھ کی طرف چلی گئیں۔ اسی دوران ایوان میں قہقہے بلند ہوئے اور سیکریٹری سینیٹ نے سینیٹر شیری رحمان کو آواز دی تو وہ دوڑتی اور مسکراتی ہوئی سیکرٹری سینیٹ کے پاس آئیں اور ان سے اپنا بیلٹ پیپر لینے کے بعد پولنگ بوتھ میں چلی گئیں۔  اجلاس کے دور ان اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب سینیٹر عبدالرحمان ملک سیکرٹری سینیٹ سے بیلٹ پیپر لے کر پولنگ بوتھ میں جانے کی بجائے لابی کی طرف چلے گئے۔ پیر کو اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک سیکریٹری سینیٹ سے ووٹ لینے کے بعد پولنگ بوتھ کی طرف جانے کی بجائے لابی کی طرف چلے گئے۔ ابھی لابی کا دروازہ کھول کر وہ لابی میں داخل ہو ہی رہے تھے کہ سیکریٹری سینیٹ اور ارکان نے آواز دے کر انہیں بلایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…