اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

نوازشریف کو ایک جوتا لگا،لیکن ان پر کئی طرف سے جوتے پھینکے گئے،ایسا لگا کہ صورتحال کنٹرول سے باہر ہوگئی ،تقریب میں موجود سینئر صحافی کے چشم کشا انکشافات

datetime 12  مارچ‬‮  2018 |

لاہور،اسلام آباد (سی پی پی )سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ نوازشریف پرجوتا پھینکنے والا شخص مولوی خادم حسین کاپیروکارہے،جب جوتا پھینکنے کا واقعہ پیش آیا تواس وقت نعرے بھی لگائے گئے کہ لبیک لبیک یارسول اللہ کے نعرے بھی لگائے گئے،نوازشریف پرایک جوتاپھینکا گیا تومختلف سمتوں سے مزید جوتے بھی پھینکے گئے،جو اسٹیج تک نہیں پہنچ پائے۔انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں وہاں تقریب میں موجود تھا

میں نے دیکھا کہ یہ 40یا50سال کاآدمی جس نے نواشریف پرجوتا پھینکا وہ اس وقت اسٹیج کی جانب آیا جب نوازشریف اسٹیج پرتقریر کرنے آئے۔جب اس شخص نے نوازشریف پرجوتا پھینکا تومختلف سمتوں سے اور بھی جوتے پھینکے گئے لیکن وہ وہاں تک پہنچ نہیں پائے۔انہوں نے بتایاکہ جب جوتا پھینکنے کا واقعہ پیش آیا تواس وقت نعرے بھی لگائے گئے کہ لبیک لبیک یارسول اللہ کے نعرے بھی لگائے گئے۔جن لوگوں نے نعرے لگائے وہ مولوی خادم حسین کی سوچ سے متاثر ہیں۔لیکن جنہوں نے نوازشریف کوتقریب میں مدعو کیا وہ جامعہ نعیمیہ والے ہیں جن کی سوچ نوازشریف کی فکر سے ملتی ہے۔دریں اثنا صدرِ مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ عدم برداشت کا رجحان ملک کو تباہی کی جانب گامزن کردے گا، عدم برداشت سے دہشت گردی کے خلاف کامیابی بھی ناکامی میں بدل سکتی ہے۔ صدر ممنون حسین نے جاری کردہ اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر دکھی ہوں، اس طرز کے سدباب کے لیے قوم کو یکجا ہونا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اختلاف شائستگی کی حد سے نکل جائے تو معاشرہ فسادی الارض کا شکار ہوجاتا ہے، اس صورت حال میں قوم کے درمیان ہوش و خرد کی آواز دب جاتی ہے، عدم برداشت کا خاتمہ نہ ہوا تو فرد اور ادارے کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔

صدر مملکت نے کہا کہ یہی صورت حال رہا تو ہماری دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں ناکامی میں بدل سکتی ہے، قوم میثاق اخلاق پر متحد ہوجائے، اختلاف کو نفرت میں بدلنے والا رویہ قوم کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ممنون حسین کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کی صورت حال ملک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں البتہ حکومت ہر شہری کی جان ومال، عزت وآبرو کی حفاظت کرے۔خیال رہے کہ آج سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف جامعہ نعیمیہ میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران ایک شخص نے ان کی جانب جوتا پھینکا جو انہیں جالگا۔واقعے کے فوری بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماؤں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اس قسم کے واقعات کو عدم براداشت کا مادہ نہ ہونے سے تشبیہ دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…