جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

اگر فوجی حکومتوں سے پاکستان نے ترقی کرنی ہوئی تو جنرل ایوب ، ضیاء اور مشرف کے 35سالہ ادوار میں ۔۔۔! وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے انتباہ کردیا

datetime 11  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ ہم سب کا ادارہ ہے جس معاشرے میں سپریم کورٹ متنازعہ ہو جائے تو معاشرے کی بنیاد گر جاتی ہے،پاکستان میں بدقسمتی سے روایت پڑ گئی ہے کہ جمہوری قیادت کی کامیابیوں کو کردار کشی کا نشانہ بنایا جاتا ہے ،ہمیں 70سال بعد یہ سبق سیکھ لینا چاہیے کہ پاکستان کی بقاء جمہوریت اور آئین میں ہے ،

اگر فوجی حکومتوں سے پاکستان نے ترقی کرنی ہوئی تو جنرل ایوب ، ضیاء اور مشرف کے 35سالہ ادوار میں پاکستان جنت نظیر بن چکا ہوتا۔وہ اتوار کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اقتصادی ترقی کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے ، ریاستی اداروں کو ہم آہنگی سے کام کرنا ہے ، سپریم کورٹ ہم سب کا ادارہ ہے جس معاشرے میں سرپیم کورٹ متنازعہ ہو جائے تو معاشرے کی بنیاد گر جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ٹوئٹ میں معزز عدلیہ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ ان کا ایک بیان اخبار میں چھپا کہ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ دس سال مین پنجاب میں کوئی کام نہیں کیا ، عدلیہ کیلئے مناسب نہیں کہ جب ہم عام انتخابات میں جا رہے ہوں تو اس طرح کے بیانات دے ، ایسے بیانات سیاسی جماعتوں کی طرح سے آئیں تو کوئی مسئلہ نہیں ان کا حق بنتا ہے ، چند ماہ میں انتخاب ہوں گے تو عوام اپنا فیصلہ دے گی کہ کس نے کتنا کام کیا ہے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے روایت پڑ گئی ہے کہ جمہوری قیادت کی کامیابیوں کو کردار کشی کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، ہمیں 70سال بعد یہ سبق سیکھ لینا چاہیے کہ پاکستان کی بقاء4 جمہوریت اور آئین میں ہے ، اگر فوجی حکومتوں سے پاکستان نے ترقی کرنی ہوئی تو جنرل ایوب ، ضیاء4 اور مشرف کے 35سالہ ادوار میں پاکستان جنت نظیر بن چکا ہوتا۔احسن اقبال نے کہا کہ فوج یہی کام سب سے اچھا کرسکتی ہے جو وہ کر رہی ہے ، آج پاکستان سے دہشت گردی کا صفایا کیا جارہا ہے ، یہی ہماری فوج کی کامیابی ہے اور ان کی خاصیت بھی ہے ، مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اور ہم پہلے سے زیادہ کامیابی حاصل کریں گے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…