پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

گزشتہ 10سال میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کتنی رقم خرچ ہوئی ؟امریکہ نے وعدہ کتنی رقم کا کیا اوردیا کیا؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 21  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 297 ارب روپے سے زائد رقم استعمال ہوئی۔سینیٹ میں تحریری جواب جمع کراتے ہوئے وزارت خزانہ دہشت گردی خلاف جنگ میں خرچ ہونے والی رقم کی تفصیلات سامنے لے آئی۔وزارت خزانہ کے تحریری جواب میں کہا گیا کہ آپریشن ضرب عضب میں عسکری اداروں کو 152 ارب روپے سے زائد جاری کیے گئے ٗ

ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 67 ارب 58 کروڑ 80 لاکھ روپے جبکہ وزارت دفاع کی جانب سے اپنے ماتحت اداروں کو 31 ارب 35 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔تحریری جواب میں انکشاف کیا گیا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے امریکا نے 13 کروڑ 20 لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا جن میں سے 11 کروڑ 10 لاکھ ڈالر وصول کیے جاچکے ہیں۔اس کے علاوہ فاٹا سیکٹریٹ کو بھی نقل مکانی کرنے والوں (آئی ڈی پیز) کی بحالی کیلئے 45 ارب 25 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔وزیر برائے خزانہ رانا افضل نے ایوان کو غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے حکومتی فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں پر 10 ہزار امریکی ڈالر سے زائد لے جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔رانا افضل نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے نوٹی فکیشن کے مطابق کسی مسافر کو 10 ہزار امریکی ڈالر سے زائد لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ کوئی شخص ایک سال میں 60 ہزار امریکی ڈالر سے زائد کے حد سے تجاوز نہیں کر سکتا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے کرنسی ایکسچینج ڈیلرز کے ذریعے غیر ملکی کرنسی کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے ہیں۔  سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 297 ارب روپے سے زائد رقم استعمال ہوئی۔سینیٹ میں تحریری جواب جمع کراتے ہوئے وزارت خزانہ دہشت گردی خلاف جنگ میں خرچ ہونے والی رقم کی تفصیلات سامنے لے آئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…