پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

عربوں کادماغ ساتویں آسمان پر،حق مانگنا بھی گناہ ہوگیا،نکالے جانے والے پاکستانی مزدوروں کے واجبات کی ادائیگی کیلئے جب پاکستان نے سعودی عرب سے رابطہ کیا تو کیا جواب ملا؟ افسوسناک انکشاف

datetime 20  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق وزرات کے حکام نے کہاہے کہ پاکستانی حکام جلد سعودی عرب جا کر پاکستانی مزدوروں کی واپسی کے معاملے پر سعودی حکام سے بات کریں گے اور سعودی حکام نے مزدوروں کے واجبات کی ادائیگی کی بھی ضمانت دی ہے۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق وزرات میں ڈی جی ویلفیئر ساجد محمود قاضی نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر برائے سمندر پار پاکستانی سید صدرالدین شاہ راشدی جلد سعودی عرب جا رہے ہیں جہاں وہ اس معاملے پر

سعودی حکام سے بات کریں گے۔انہوں نے کہاکہ جب بھی پاکستانی مزدور واپس آتے ہیں تو ہمیں علم ہوتا ہے کہ کتنے پاکستانی واپس آئے ہیں اور ان کے کتنے واجبات ہیں ٗہمارے حکام ان کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں تاہم یہ سب نجی کمپنیاں ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی حکام سارا وقت سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے پاکستانی مزدوروں کی واپسی کا عمل کم سے کم ہو۔ساجد محمود قاضی نے بتایا کہ سعودی حکام نے بھی ہم سے کہا تھا کہ چونکہ یہ نجی کمپنیاں ہیں اس لیے سعودی حکومت ان پر زبردستی نہیں کر سکتی لیکن یہ ضمانت ضرور دیتے ہیں کہ یہ لوگ بھاگیں گے نہیں اور اپنی مالی حالت بہتر ہوتے ہیں یہ ادائیگیاں کر دیں گے تاہم اس کیلئے وقت کا تعین نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہاکہ سعودی حکام نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومتِ پاکستان چاہے تو ان کمپنیوں کو عدالت میں بھی لے جا سکتی ہے۔ساجد محمود قاضی نے بتایا کہ اسلام آباد آنے والے مظاہرین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اوور سیز کے دفتر آئیں اور ہم انہیں کو سمجھائیں گے کہ معاملات کس طرح حل ہو سکتے ہیں۔انہوں نے اس دعوے کو بھی رد کیا کہ دیگر ممالک کے لوگوں کو ادائیگیاں کر دی گئی ہیں

لیکن صرف پاکستانیوں کو نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی حکام اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ان لوگوں کی مدد کی جائے۔ ڈی جی ویلفیئر نے کہا کہ کئی لوگ تنخواہ نہ ملنے کے بعد بھی انہی کمپنیوں کے ساتھ اب بھی کام کررہے ہیں کیونکہ انہیں 20 سال سے زیادہ کام کرنے کے بعد اندازہ ہے کہ ان کے واجبات ادا ہو جائیں گے۔ساجد محمود نے بتایا کہ پچھلی بار بھی جب منسٹر صاحب سعودی عرب گئے تو سعودی حکام نے انہیں بتایا کہ واپس جانے والے لوگ انڈیا، سری لنکا، بنگلہ دیش اور فلپائن اور دیگر ممالک کے بھی تھے لیکن جتنا ردِ عمل پاکستان کے چھ سات ہزار افراد سے ملا ہے اس کی وجہ سے ان پر دباؤ ہے اور کہا کہ وہ تو سوچ رہے ہیں کہ پاکستان سے لیبر کم ہی منگوائی جائے۔سعودی حکام کا کہنا تھا کہ ہم وہاں سے ہی لیبر منگواتے ہیں جہاں سے تعاون بہتر ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…