منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

یہ کام ہونا چاہیے ٗ کسی کو رد کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا،پیپلزپارٹی نے ’’نوازشریف کو بچانے‘‘ کیلئے حکمران جماعت کو بڑی پیشکش کردی

datetime 19  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پاناما انکشافات پراپوزیشن نے کہا تھا مسئلہ پارلیمنٹ میں حل ہونا ضروری ہے ٗ وزیر اعظم صاحب ہم نے خود پارلیمان کو کمزور کیا ہے ٗ پاکستانی عوام کی بہتری کیلئے قانون سازی ہونی چاہیے ٗ کسی کو رد کر نے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ٗ پارلیمنٹ کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی پر عمل ہونا چاہیے ۔ پیر کو قومی اسمبلی سے خطاب کے

دور ان انہوں نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کسی اور نے نہیں ٗ مسٹروزیراعظم! ہم نے خود پارلیمان کوکمزورکیا ہے ٗہمیں ماضی کی غلطیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اقرار کرنا چاہیے کہ جب ہم عدلیہ کو ڈیکٹیشن دیتے ہیں تواس وقت ٹھیک ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام کی بہتری کے لئے قانون سازی ہونی چاہیے ٗ کسی کو رد کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ پارلیمنٹ جو قانون سازی کرے اس پر عمل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہر ادارہ اپنی جگہ اپنا کام کرے کسی کا کوئی حق نہیں وہ کسی اور کا کام کرے ٗ یہ پاکستان کی عوام اور آنے والی نسلوں کیلئے بہتر ہوگا ٗدیر آید درست آید ٗپارلیمنٹ قانون سازی کرے، اچھی بات ہے۔ قانون سازی ذاتی نہیں ملک کیلئے ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ اپنے مفاد کیلئے قانون سازی تباہ کن ہوتی ہے ٗ پارلیمنٹ کے تقدس کے لیے ہم سب ایک ہیں، ملک کی بہتری کے لیے قانون سازی ہوگی تو ہم حاضر ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ادارے ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کریں گے تو ملک کمزور ہوگا۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ اگر قانون سازی ایک فرد اور مفادات کے لیے ہو تو تباہ کن ہوتی ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ قانون سازی حکومت یا اپوزیشن کی نہیں ہوتی بلکہ ملک کیلئے ہوتی ہے ٗجب تک یہ جذبہ نہیں ہوگا نتائج مثبت نہیں ہوں گے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…