پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

مسلمان ممالک ہی بڑا سیکورٹی رسک بن گئے،بھارت کاایران کے بعداومان کے ساتھ فوجی نوعیت کا معاہدہ ،اومان کی ’’دقم پورٹ‘‘ کے ذریعے کیا کچھ ہوگا؟پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 19  فروری‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئروائس چےئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہاکہ بھارت کا حال ہی میں اومان کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع دقم بندرگاہ کے ساتھ فوجی و تجارتی تعاون کا معاہدہ پاکستان کے پالیسی سازوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ بحر ہند کے شمال مشرقی کنارے پر واقع بندرگاہ دقم تک رسائی سے ہندوستان خلیج عدن کے ذریعے سے ریڈ سی تک پہنچے گا۔

اس معاہدے کی رو سے نہ صرف بھارت کی کاروباری سرگرمیاں دقم پورٹ کے ذریعے تیز ہونگی بلکہ بھارتی نیوی بھی اس بندرگاہ کو لاجسٹکس سپورٹ کے لئے استعمال کریگی، بلکہ انڈین نیوی کو اس معاہدے کی رو سے خشک گودی بھی میسر ہوگی جس میں انڈین نیوی کے بحری جہاز اور بیڑوں کی مرمت ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسی نوعیت کا ایک معاہدہ ہندوستان ایران کے مابین پہلے ہی موجود ہے جس کی رو سے بھارت ایران کی چابہار بندرگاہ تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کرسکتا ہے۔ان معاہدوں کے پیش نظربھارت کے عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بھارت اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ تجارت کے فروغ کے لئے بھی اقدامات کررہا ہے، اس کے مقابلے میں پاکستان کے پاس صرف سی پیک پراجیکٹ ہے جس کی افادیت کو عوام اور بالخصوص سرمایہ کارروز اول سے سمجھ رہے ہیں ۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت اور پالیسی ساز نہ صرف سی پیک کی جلد تکمیل کی کوشش کریں اور اس گرانقدر پراجیکٹ کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کریں بلکہ خطہ کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی و دفاعی منصوبوں پر بھی کام کریں اورپڑوسی ممالک ایران، اور افغانستان کے ساتھ ساتھ عرب ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کے فروغ کے لئے اقدامات کریں۔بھارت افغانستان میں اپنی معاشی موجوگی بڑھانے کے لئے روزافزوں اقدامات کررہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف افغانستان میں اپنی معاشی سرگرمیاں بڑھانا ہیں بلکہ افغانستان کے ذریعے وسط ایشیاء کے ممالک کے ساتھ تجارت کا فروغ اور وسط ایشیاء ممالک کے ذریعے بذریعہ روڈ یورپی منڈیوں تک رسائی ہے۔

پاکستان سی پیک پراجیکٹ سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کے لئے ملک میں سیاسی استحکام اور بیرونی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لئے اقدامات کرکے ہی بھارت کے خطرناک عزائم کا مقابلہ کرسکتا ہے اور خطہ میں بھارتی بالادستی کے آگے بند باندھ سکتا ہے۔بحیثیت قوم ہمیں اس حقیقت کا ادراک جتنی جلد ہوجائے اتنا ہمارے لئے بہتر ہے کہ ہم سیاسی استحکام کے بغیر اپنے دفاع کو مستحکم نہیں کرسکتے اس لئے ملک میں موجود سیاسی شورشوں کو ختم کرکے معاشی ترقی کے ذریعے ملکی سا لمیت اور دفاع کے استحکام کے لئے ہر سطح پر کوشش کی جائے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کی سی پیک پراجیکٹ کی جلد تکمیل کے ساتھ اس پراجیکٹ کو وسط ایشاء کے ممالک تک توسیع دی جائے تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستان کی مصنوعات بآسانی رسائی حاصل کریں، نیز بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے متوجہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…