پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے موجودہ قوانین اور پراسیکیوشن کے طریقہ کارکا جائزہ لیا جائے گا، مریم اورنگزیب

datetime 19  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) ملک میں بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام اور سخت قوانین بنانے کیلئے قائم کی گئی قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب کو چیئر پرسن منتخب کر لیا گیا ہے۔ چیئر پرسن منتخب ہونے کے بعد وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہا کہ کمیٹی میں بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے موجودہ قوانین اور پراسیکیوشن کے طریقہ کارکا جائزہ لیا جائے گا۔

قوانین میں بہتری اور عملدر آمد کے حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز ،صوبائی حکومتوں اورسول سوسائٹی کے نمائندگان سے مشاورت کی جائے گی،بچوںپر تشدد سے متعلق آگہی ،مناسب تربیت اور روک تھام کے طریقوںکے بارے میںمعلومات تعلیمی نصاب میںشامل کر نے پر بھی غور کیا جائے گا،کمیٹی اس ضمن میں اپنی سفارشات 30دن کے اندر مرتب کرکے سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کردے گی۔پیر کو بچوںسے زیادتیوںکے خلاف قائمہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا پہلا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔اجلاس میںکمیٹی ارکان وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری ، سابق وزیر قانون زاہد حامد،رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز،شاہدہ اختر علی،رومینہ خورشید عالم،عذرا فضل پیچوہو ،انجینئر علی محمد خان ایڈووکیٹ،مس کشور زہرا اور صاحبزادہ طارق اللہ نے شرکت کی ،اجلاس میںوزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب کو کمیٹی کی چیئر پرسن منتخب کر لیا گیا،وزیر مملکت کا نام رکن قومی اسمبلی رومینہ خورشید عالم نے تجویز کیااورسابق وزیر قانون زاہد حامد نے انکی تائیدکی۔چیئر پرسن منتخب ہونے کے بعد وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہا کہقانون و انصاف ، انسانی حقوق اور تعلیم کی وزارتیںکمیٹی کو اپنی تجاویز پیش کریںگی،بچوں سے زیادتی اور تشدد کے واقعات کے تدارک کے لیے خطے کے دیگر ممالک کے تجربات ، رائج قوانین سے رہنمائی لی جائے گی اور صوبوںمیں لاگو قوانین کا جائزہ لیا جائے گا ۔

کمیٹی اس ضمن میں اپنی سفارشات 30دن کے اندر مرتب کرکے سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کردے گی،زینب قتل کیس میں عدالت کی جانب سے جلد فیصلہ سنانا نہایت خوش آئند ہے،پنجاب حکومت نے مختصر عرصے میں زینب کیس کے شواہد اکٹھے کیے جوقابل ستائش ہے،تمام سٹیک ہولڈرز کی جانب سے تجاویز کے بعد ضرورت کے تحت قوانین میں ترامیم کی تجویز دی جائے گی تا کہ مستقبل میں کوئی بھی ہمارے بچوں کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے ۔

بچوں پر تشدد سے متعلق آگہی ،مناسب تربیت اور روک تھام کے طریقوںکے بارے میںمعلومات تعلیمی نصاب میںشامل کرنا بھی زیر غور ہے،معاشرے سے ایسے واقعات کے خاتمے میں قومی شعور کی بیداری کے لیے میڈیا اپنا موثر کردار ادا کرے،وطن عزیز کے بچوں اور ان کے حقوق کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری ایک ماں کے جذبے سے نبھانے کی پوری کوشش کروںگی۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں کہ انہوں نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے دو رس اقدامات اٹھانے کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا بروقت فیصلہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…