منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

نوازشریف کا حکومتی طاقت سے یہ کام کرناسقوط ڈھاکہ سے بڑا سانحہ اور آئین سے کھلی بغاوت ہے ،اہم سیاسی شخصیت نے قوم کو انتباہ کردیا

datetime 18  فروری‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی)سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے خبردار کیا ہے کہ سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کا حکومتی طاقت سے عدلیہ کے خلاف انتخابی مہم چلانا سقوط ڈھاکہ سے بڑا سانحہ اور آئین سے کھلی بغاوت ہے ٗنوازشریف کی ’تحریک انارکی‘ روکنے کے لئے پارلیمانی قائدین، (ن) لیگ کی سینئرسنجیدہ قیادت اور قانون دان برادری میدان میں آئے۔

اتوارکومیڈیا نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے سابق وزیراطلاعات نے کہاکہ آئین اور عدلیہ سے ٹکرانے والا ہر حکمران تاریخ کے کوڑے دان میں ہے۔ عدلیہ کے خلاف جلسوں میں فیصلے کرانے سے صرف ’انارکی‘ آئے گی جس کا ملک اس وقت متحمل نہیں ہوسکتا۔ ایک سوال پر محمد علی درانی نے کہاکہ عدلیہ نے یہ معاملہ واپس بھیج دیا تھا لیکن نوازشریف نے بطور وزیراعظم خود اصرار کیاکہ عدلیہ ہی فیصلہ کرے۔ وزیراعظم کا تحریری حکم جاری ہوا اور عدلیہ سے نہ صرف درخواست کی گئی بلکہ ہر فیصلہ تسلیم کرنے کا عہد کیاگیا۔ اب وزرا، پارٹی قائدین اور کارکنوں کے لشکر کے ہمراہ عدلیہ پر یلغار کا کیا جواز ہے۔ اسے آئین پاکستان کے خلاف دہشت گردی قرار دیا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ میاں صاحب کی تحریک عدل کا ایک ہی مطلب ہے کہ آئین منسوخ کردیاجائے۔ نیا دستور یہ ہوگا کہ عدلیہ ووٹ لینے والے کسی مجرم کو سزا نہ دینے کی پابند ہوگی اور جزا و سزا کے تمام فیصلے ووٹ کی پرچی سے ہواکریں گے۔ بادشاہت اور بدترین آمریت سے شاید اس کی مثال مل سکے۔ قران وسنت، دستورپاکستان کی رو سے ووٹ کی پرچی کسی حاکم کو قانون سے بالا ترنہیں بناتی۔نوازشریف یہ پیغام دے رہے ہیں کہ مجرموں کے خلاف فیصلے عدالتوں میں نہیں، جلسوں اور سڑکوں پر ہوں گے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…