پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ویڈیو سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر، بات معصوم طلباء و طالبات کی آپس میں زیادتی کروانے کی ہی نہیں بلکہ ان لڑکے، لڑکیوں کی ماؤں بہنوں کے ساتھ بھی کیا کچھ کیا جاتا رہا؟ لرزہ خیز انکشافات

datetime 18  فروری‬‮  2018 |

اوکاڑہ (نیوز ڈیسک) طلبہ و طالبات کے غیر اخلاقی ویڈیو سکینڈل کے مرکزی ملزم نے جسمانی ریمانڈ کے دوران نہایت ہی شرمناک انکشاف کیے ہیں۔ ایک موقر قومی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملزم ایک طرف تو سکول کے بچے اور بچیوں سے زیادتی کرتا تھا دوسری طرف ان کی ماؤں اور بہنوں کو بھی بلیک میل کرکے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، اس شرمناک جرم میں اس کی اساتذہ بہنیں بھی شریک تھیں۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایس ایچ او حجرہ شاہ مقیم کے مطابق خفیہ اطلاع پر اے ایس پی دیپال پور نے گزشتہ دنوں حجرہ شاہ مقیم کے نواحی گاؤں مہروک کلاں میں ایک پرائیویٹ سکول الحافظ اسلامک پبلک سکول اینڈ اکیڈمی کے مالک جو کہ لیسکو کا ملازم حافظ محمد یوسف ہے کو گرفتار کرنے کے علاوہ اس سے مختلف قسم کے آلات بھی برآمد کیے گئے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم سے برآمد ہونے والے 50 سے زائد ویڈیو کلپس میں وہ سکول کے طلباء و طالبات کی آپس میں زیادتی کرواتا بلکہ خود بھی ان سے زیادتی کرتا تھا۔ اس ملزم کا پولیس نے عدالت سے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ہوا ہے۔ پولیس نے اس کے بارے میں مزید بتایا کہ یہ دس سال سے سکول کی آڑ میں اس گھناؤنے دھندے میں ملوث ہے اور اب تک ان گنت لڑکے لڑکیوں کو اپنی ہوش کا نشانہ بنا چکا ہے، ایس ایچ او نے بتایا کہ ملزم حافظ یوسف سکول کے دفتر کو ڈرائینگ روم کے طور پر استعمال کرتا تھا وہ اسی کمرے میں طلبہ و طالبات کو بلا کر فحش فلمیں دکھاتا تھا اور پھر انہیں زیادتی کرنے پر مجبور کرتا تھا اس موقع پر وہ ان کی خفیہ طریقے سے ویڈیو بنا لیتا تھا جو بعد میں ان بچوں کو دکھا کر بلیک میل کرتا اور انہیں اپنی درندگی کا نشانہ بناتا۔ ملزم حافظ یوسف نے ان لڑکے لڑکیوں کی ماؤں اور بہنوں کو ان کی فلمیں دکھا کر بلیک میل کیا اور ان سے بھی زیادتی کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…