پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

عدالت نے سیریل کلر عمران کو سزائے موت دینے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر زینب کا قاتل پھانسی سے بچ سکتا ہےکیونکہ۔۔ ایسی خبر کہ جان کر آپ کو بھی یقین نہیں آئے گا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے

datetime 17  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)زینب قتل کیس کی آج کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشتگردی عدالت میں سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت جسٹس سجاد احمد کر رہے تھے۔ جسٹس سجاد احمد نے زینب قتل کیس میں محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سیریل کلر عمران کو زینب قتل کیس میں 4مرتبہ سزائے موت سمیت عمر قید، 7سال قید اور مجموعی طور پر 32لاکھ جرمانے کی سزا سنائی۔ اسیکیوٹر جنرل احتشام قادر

نے کہا کہ مجرم عمران علی کے پاس 15 دن ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر کرے گا۔فیصلہ سنانےسے قبل جسٹس سجاد احمد نے سیریل کلر اور زینب قتل کیس کے مجرم عمران سے آخری وقت تک اس سے پوچھا کہ کیا زینب کو اس نے قتل کیا ہے جس پر عمران علی نے اللہ کو حاضر ناضر جان کر اپنے گھناؤنے جُرم کا اعتراف کیا۔زینب قتل کیس کا فیصلہ آنے کے بعد کوٹ لکھپت جیل کےباہر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اسیکیوٹر جنرل احتشام قادر نے کہا کہ مجرم عمران علی کے پاس 15 دن ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر کرے گا۔ پراسیکیوٹرجنرل احتشام قادر کا کہنا تھا کہ مجرم صدر مملکت ممنون حسین سے رحم کی اپیل بھی کر سکتا ہے۔ رحم کی اپیل منظور ہونے کی صورت میں مجرم کی سزا معاف ہونے کا امکان ہے بصورت دیگر 15 دن کے بعد مجرم کو انسداد دہشتگردی کی عدالت کی جانب سے سنائی جانیوالی سزا پر عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔واضح رہے کہ زینب قتل کیس کی سماعت96گھنٹے مجموعی طور پر جاری رہیں جس کے بعد عدالت نے دو روز قبل فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جسے آج سناتے ہوئے عدالت نے سیریل کلر عمران کو زینب قتل کیس میں 4مرتبہ سزائے موت سمیت عمر قید، 7سال قید اور مجموعی طور پر 32لاکھ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…