منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’مجھے کسی مولوی یا ملا سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، میں نے خود خواتین کو عاصمہ جہانگیر کا جنازہ پڑھنے کی اجازت دی ہے، میں دوبارہ ایسا کروں گا‘‘، مولانا مودودی کے صاحبزادے حافظ ابتسام سے لڑ پڑے اور بار بار ایسی نماز جنازہ پڑھانے کا اعلان کر دیا

datetime 15  فروری‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حیدر فاروق مودودی نے کہا کہ یہ دوسرا یا تیسرا جنازہ ہے جس میں عورتیں پیچھے کھڑی ہوئی ہیں، میں نے خود اجازت دی ہے، انہوں نے کہا کہ خواتین نے مجھ سے کہاکہ ہم بھی کھڑی ہونا چاہتی ہیں تو میں نے کہا کہ تم بھی کھڑی ہو جاؤ اور پیچھے نماز جنازہ پڑھو اور اس کے لیے

مجھے کسی بھی ملا کی رائے کی ضرورت نہیں ہے، اس موقع پر پروگرام کے میزبان نے ابتسام الہی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خواتین کو خود نماز جنازہ پڑھنے کی اجازت دی اور انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے، جس کے جواب میں ابتسام الہی نے کہا کہ جنازے میں خواتین مردوں سے کندھا سے کندھا ملا کر کھڑی تھیں، ان کے درمیان نہ کوئی دیوار تھی نہ کوئی پردہ تھا، عورتیں مردوں میں شانے کے ساتھ شانہ ملا کر کھڑی تھیں، ابتسام الہی نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے یہ درست کیا ہے تو پھر آپ نے تو میراتھن ریس کو بھی درست قرار دیا ہے، نہ یہ قرآن و سنت کی تعبیر ہے، آپ اپنی مرضی کر رہے ہیں لیکن آپ حقائق کا تو اعتراف کریں اس سے آپ منہ نہ موڑیں، جو بات غلط ہوئی ہے اسے آپ کہیں کہ وہ غلط ہے، جس پر حیدر فاروق مودودی نے کہا کہ آپ نے بالکل ٹھیک کہا لیکن میں اپنے موقف پر قائم ہوں اور آئندہ بھی ایسا کروں گا۔ اس موقع پر ابتسام الہی نے کہا کہ آپ نے تو اپنی مرضی ہی کرنا ہے، جس پر حیدر فاروق مودودی نے کہا کہ جتنا میں عاصمہ جہانگیر کو جانتا تھا اتنا آپ نہیں جانتے، میں نے جو بھی کیا وہ ٹھیک کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…