منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مسلح افواج کو سوشل میڈیا پر بدنام کرنے والوں کی اب خیر نہیں ، پاکستان آرمی نے بڑی کارروائی کا آغاز کر دیا

datetime 15  فروری‬‮  2018 |

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاک فوج نے مسلح افواج کے نام پر چلنے والے 255 جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کیلئے فہرستیں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیں۔ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے ایف آئی اے کو دی گئی فہرست میں 45 ٹوئٹر، 94 فیس بک، 101 یوٹیوب اور 15 انسٹاگرام کے جعلی اکاؤنٹس کی

تفصیلات شامل ہیں۔واضح رہے کہ جعلی اکاؤنٹس براہ راست پاکستان آرمی، پاکستان نیوی اور پاکستان ایئرفورس کا نام استعمال کر رہے ہیں، جن کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ ان اکاؤنٹس میں جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ سب فوج کا بیانیہ ہے۔آئی ایس پی آر نے ان اکاؤنٹس کے خلاف بھی کارروائی کرکے واضح پیغام دیا ہے کہ فوج ایک منظم ادارہ ہے جہاں قانون کا احترام فرض اول ہے۔ٹوئٹر اکاؤنٹس میں سب سے زیادہ فالورز پاکستان آرمی نامی اکاؤنٹ کے ہیں ٗجن کے 1 لاکھ 21 ہزار فالورز ہیں۔پاکستان ملٹری نامی اکاؤنٹ کے 84 ہزار فالورز ہیں اور ان سے فوج سے متعلق خبریں ٹوئٹ کی جاتی تھیں۔آئی ایس آئی نامی اکاؤنٹ کے 64 ہزار فالورز ہیں دیگر اکاؤنٹس پراؤڈ خاکی ٗگڈ سولجر ٗفوجی ٹوئیٹ ٗآئی ایس آئی آر ٹی ٗاور پروٹیکٹرز کے نام سے سرگرم عمل تھے۔فیس بک پر پاکستان کی مسلح افواج کے ناموں سے چلنے والے اکاؤنٹس کی تعداد 94 ہے۔ پاک آرمی کے نام سے اکاؤنٹ کو فالو کرنے والوں کی تعداد 9 لاکھ 62 ہزار سے زائد ہے۔اسی طرح پاکستان نیوی ٗائیر فورس ٗ آئی ایس آئی ٗآئی ایس پی آر ٗڈی جی آئی ایس پی آر ٗآئی ایس پی آر آفیشل ٗپاک نیوی آفیشل ٗپاک ائیر فورس آفیشل ٗپی اے ایف گرلز اور ایس ایس جی جیسے ناموں کے ساتھ بنائے گئے اکاؤنٹس کو فالو کرنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے جبکہ فیس بک پر 31 اکاؤنٹس پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ٹائٹل کے ساتھ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…