منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی کی حافظ قرآن سمیرا آج بھی انصاف کی منتظر ۔۔ پولیس کا شرمناک سلوک ،کاروائی کیلئے تین لاکھ دو ورنہ یہ ایڈریس لو اور خود چلی جائو، متاثرہ ماں نے چیف جسٹس سے اپیل کر دی

datetime 15  فروری‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)قرآن حافظ سمیرا بھی انصاف کی منتظر ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کی رہائشی سمیرا نویں کا امتحان دینے کیلئے ڈھائی سال قبل گھر سے نکلی تھی لیکن اس کی واپسی ابھی تک نہیں ہوئی ۔ سمیر ا کی گمشدگی کا پرچہ قریبی تھانے 2015/90 میں کرایا گیا ۔ 15دن بعد جب سمیر ا نے اپنی والدہ کو فون کر کے انہیں مدد کرنے کیلئے کہا تو کال ٹریس کرنے پر پتہ چلا کہ وہ منڈی بہائو الدین چک مانو میں ہے ۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق پولیس نے کاروائی شروع کرنے کیلئے متاثر ہ خاندان سے تین لاکھ روپے مانگے ۔ سمیرا کی والدہ کا کہنا تھا کہ میں ایک غریب عورت ہوں میرا زریعے آمدن بھی اتنی خاص نہیں میرے شوہر مجھے چھوڑ کر جا چکے ہیں ۔ اتنی رقم کا میں کیسے بندوبست کروں ۔ پولیس نے ایڈریس ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہہ دیا کہ آپ خود چلی جائیں اور اپنی بیٹی کو لےآئیں ۔ ایدریس لے کر میں نے اپنے کزن کو فون کیا اور اس کی مدد سے میں وہاں پہنچی تو مجھے حویلی میں کوئی نہیں ملا ۔ اس گائوں کے چوہدری نے مجھے پانچ دن کا ٹائم دیا اور میری بیٹی سے صرف دو منٹ کی ملاقات بھی کرائی گئی۔ میری بچی مجھے سے ملتے ہی میرے ساتھ چپک کر رونے لگی اور فریاد کرنے لگی کہ مجھے بچا لو ۔ یہ لوگ مجھےتشدد کا نشانہ بناتے ہیں ۔سمیرا کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ لوگ میری بچی کو پیسے نہ ملنے پر نہیں چھوڑ رہے۔ میں جھولی پھیلا کر چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار دے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ خدارا مجھے انصاف دیا جائے اور میری بچی کو بازیاب کروایا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…