منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے آئین کی غلط تشریح کی جارہی ہے،چیئرمین سینٹ

datetime 15  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے آئین کی غلط تشریح کی جارہی ہے‘ عالمی بینک کے تعاون سے وسائل کی تقسیم سے متعلق بل کا مسودہ آئین کی نفی ہے‘ ہم ایک خودمختار ملک ہیں اور آئی ایم ایف ہمیں ڈکٹیٹ کررہا ہے‘ صوبوں اور وفاق کے درمیان وسائل کی تقسیم ڈونر ایجنسی چلا رہی ہے‘ اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کے خلاف قوتوں کو کام کرتے دیکھ رہا ہوں ۔

مجھے شرم آتی ہے کہ کئی بجٹ گزر گئے اور این ایف سی ایوارڈ نہیں آیا‘ بیوروکریسی نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ بھی این ایف سی ایوارڈ کے بغیر آئے گا‘ ہم نے 18ویں ترمیم میں مشترکہ مفادات کونسل کو مضبوط کیا تھا۔ جمعرات کو چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے فیسکل فیڈرل ازم کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کا نظام کام نہیں کررہا کہا جاتا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ پاکستان کے مالی مسائل کو حل نہیں کرسکتا۔ ہم ایک خودمختار ملک ہیں اور آئی ایم ایف ہمیں ڈکٹیٹ کررہا ہے۔ آئی ایم ایف ڈکٹیٹ کرتا ہے کہ صوبوں اور وفاق میں وسائل کیسے تقسیم ہوں۔ عالمی بینک کی مدد سے صوبائی وسائل سے متعلق بل کا مسودہ تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں اور وفاق کے درمیان وسائل کی تقسیم ڈونر ایجنسی چلا رہی ہے ایسے حالات میں کیا 18 ویں ترمیم پر عمل درآمد ہوتے دیکھ سکتا ہوں؟ بیوروکریسی کی جانب سے آئین کی تشریح کی جارہی ہے اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کے خلاف قوتوں کو کام کرتے دیکھ رہا ہوں۔ پانچ سال گزر گئے ہیں آرٹیکل 160 کی غلط تشریح کی جارہی ہے۔ مجھے شرم آتی ہے کئی بجٹ گزر گئے اور این ایف سی ایوارڈ نہیں آیا۔ سیکرٹری خزانہ اور چاروں صوبوں کے سیکرٹریز نے اجلاس منعقد کیا بیوروکریسی نے فیصلہ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ پر آئینی خلاف ورزی جاری رہے۔

بیوروکریسی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ بجٹ بھی این ایف سی ایوارڈ کے بغیر آئے گا۔ کس نے بیوروکریسی کو اختیار دیا کہ وہ اس حوالے سے فیصلہ کرے۔ پارلیمنٹ موجود ہے تو این ایف سی ایوارڈ کے بغیر بجٹ لانے کا اختیار کس نے دیا؟ حکومت این ایف سی ایوارڈ کے بغیر بجٹ کا معاملہ پارلیمنٹ میں لاسکتی تھی این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے آئین کی غلط تشریح کی جارہی ہے آئین کے آرٹیکل 172پر عمل درآمد کیلئے ابھی تک کوئی میکنزم نہیں بنا آرٹیکل 172 کے تحت صوبوں‘ وفاق کے درمیان وسائل کی تقسیم پچاس فیصد ہوگی‘ عالمی بینک کے تعاون سے وسائل کی تقسیم سے متعلق بل کا مسودہ تیار کیا گیا ہے۔ وسائل کی تقسیم کے بل کا مسودہ آئین کی نفی کرتا ہے ہم نے 18ویں ترمیم میں مشترکہ مفادات کونسل کو مضبوط کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…