منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ میں خواتین کی شرکت پر فتوے، مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک جنازہ ایسا بھی تھا کہ جس کی امامت بھی خاتون نے کرائی اور مقتدی بھی خواتین تھیں، حیران کن تاریخی واقعہ

datetime 14  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)عاصمہ جہانگیر کے نماز جنازہ میں مردوں کے ساتھ خواتین کی شرکت پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہے اور پاکستان کے نامور علمائے کرام اسطرح کی نماز جنازہ کو غیر شرعی قرار دے رہے ہیں۔ مگر آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا جنازہ بھی گزرا ہے جس کی نماز جنازہ کی امامت بھی ایک خاتون نے کروائی تھی اور یہ نماز جنازہ

پڑھنے والی بھی خواتین تھیں اور میت کو قبرستان لانے اور دفنانے تک تمام امور خواتین نے ہی سر انجام دئیے تھے۔ اس بات کا انکشاف ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کے رہنما فیصل سبزواری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کیا ہے۔ اپنے ٹویٹر پیغام میں پاکستان کی تاریخ کے اس انوکھے جنازے کی تصاویر سمیت تفصیلات شیئر کرتے ہوئے فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ” خواتین کے جنازہ پڑھنے پر معترض ہونے والوں کی خدمت میں نہایت افسوس کے ساتھ ، اب سے 21 برس پہلے کی یہ خبر اور تصویر حاضر ہے۔ جب ایم کیو ایم کے کارکنان پر زمین تنگ تھی اور جنازے میں شرکت کے لیے جانے والے کا بھی جنازہ اٹھ رہا تھا تو خواتین ہی امام و مقتدی بنیں اور جنازہ پڑھایا گیا “۔فیصل سبزواری کی جانب سے ایم کیو ایم کے کارکن منیر احمد کے جنازہ کی خبر اور تصویر بھی شیئر کی گئی ہے جس میں نماز جنازہ ادا کرتی خواتین اور خاتون امام کو دیکھا جاسکتا ہے۔ جنازہ پڑھنے والی خواتین نے ہی بعد ازاں منیر احمد کی تدفین بھی کی تھی۔ خبری تراشے کے مطابق یہ واقعہ کورنگی میں پیش آیا تھا اور مبینہ طور پر ایم کیو ایم کا یہ کارکن مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔واضح رہے کہ فیصل سبزواری نے جس وقت کی تصاویر شیئر کی ہیں اس وقت کراچی میں آپریشن جاری تھا اور اس وقت کی مہاجر قومی موومنٹ میں ایک دھڑا مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کے نام سے سامنے آیا تھا جس کے متعلق ایم کیو ایم دعویٰ کرتی رہی ہے کہ یہ دھڑا ایجنسیوں کی آشیرباد سے ان کے کارکنوں اور رہنمائوں کو قتل کرتا رہا ہے۔اس سے قبل بھی مختلف اوقات میں ایم کیو ایم کے رہنمائوں کی جانب سے اسی طرح کی تصاویر اور واقعات شیئر کئے جاتے رہے ہیں ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…