منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حافظ آباد ٗ ریڑھ کی ہڈی سے پانی نکالنے کاسکینڈل،مزید 16متاثرہ خواتین سامنے آگئیں،بون میرو نکالنا اتنا آسان نہیں ،ملزم دراصل کیا کرتے رہے؟چونکاک دینے والے انکشافات

datetime 13  فروری‬‮  2018 |

حافظ آباد (این این آئی)حافظ آباد میں ریڑھ کی ہڈی سے پانی نکالنے کا معمہ حل نہ ہوسکا ٗمزید 16متاثرہ خواتین سامنے آگئیں، جنہیں میڈیکل ٹیسٹ کے لئے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔ایم ایس ہسپتال کے مطابق خواتین کی ریڑھ کی ہڈیوں کے قریب سرنج کے نشانات ہیں ٗڈی پی او نے معاملے کی تحقیقات کیلئے خصوصی کمیٹی بنادی ہے جو 3دن میں رپورٹ دے گی ۔حافظ آباد میں ریڑھ کی ہڈی سے پانی نکالنے کامعمہ مزید الجھ گیا گزشتہ روز

ایک خاتون کی شکایت تھی تاہم منگل کو 16متاثرہ خواتین سامنے آگئیں۔وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ بون میرو نکالنا اتنا آسان نہیں ٗابتدائی طور پر معاملہ سمجھ سے باہر ہے ،ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔حافظ آباد میں لڑکیوں کے بون میرو نکالنے کا معاملہ کیا ہے؟ملزمان کے مقاصد کیا ہیں؟ اس کے پیچھے کون کون ملوث ہے ؟ پولیس ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت سر جوڑ کر بیٹھ گئے ۔حافظ آباد کا محلہ بہاولپورہ کی ایک خاتون نے 3روز قبل چند ملزمان کی جانب سے ریڑھ کی ہڈی کا پانی نکالنے کی شکایت درج کراتی تھی تو پولیس چکراگئی ،ملزمان کو گرفتار کیا تو متاثرہ خاتون ایک نہیں کئی تھیں۔تفتیش کا دائرہ بڑھایا گیا تو16متاثرہ خواتین سامنے آگئیں ٗملزمان جہیز اور نقد رقم کا جھانسہ دیکر ریڑھ کی ہڈی سے پانی نکالتے اس عمل سے کئی خواتین کی توحالت بھی خراب ہوگئی۔ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر ریحان اظہر نے میڈیا کو بتایا کہ16 متاثرہ خواتین کو اسپتال لایاگیا،جہاں ان کا طبی معائنہ کرایا گیا ہے ٗ متاثرہ خواتین کی ریڑھ کی ہڈی پر سرنج کے نشانات پائے گئے ہیں۔ڈی پی او ڈاکٹر غیاث گل نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان ایک سے دوسی سی کامیٹریل ریڑھ کی ہڈی سے نکالتے تھے ٗمعاملہ کی تحقیقات کے لئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جوتین دن میں تحقیقات مکمل کرلے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…