منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سیاست میں ایک اور نیا کلچر متعارف،خیبرپختونخوااسمبلی میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے تین اراکین اسمبلی سیٹیاں بجاتے رہے،ایسا کیوں کیاجاررہاہے؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 13  فروری‬‮  2018 |

پشاور(این این آئی)خیبرپختونخوااسمبلی میں دوسرے دن بھی سیٹیاں بجائی گئیں ۔تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کابینہ کے دو اراکین قاسم خٹک اور شکیل خان نے بھی احتجاج کرنے والے پارٹی رکن امجدآفریدی کاساتھ دیا جس کے باعث ایوان مچھلی منڈی میں تبدیل ہوگیا ۔اسمبلی اجلاس کے آغاز پر پاکستان تحریک انصاف کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے امجدآفریدی نے کہاکہ سات ماہ قبل انہوں نے اسی ایوان میں دھرنادیا پھرڈائس پرکھڑے ہوکراحتجاج کیا ۔پیر کے روز سیٹیاں بجائیں

لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی میں خود حکومت کا حصہ ہوں اپوزیشن میں ہوتا توحکومت کو بتادیتاکہ احتجاج کیسے کیاجاتاہے حکومت کیوں مجھے نہیں اپنارہی مجھے کابینہ سے نکالاگیاپارٹی سے تو نہیں نکالاگیا میرے حلقے کے رائلٹی فنڈزصوابی،مردن ،دیر اورنوشہرہ میں خرچ کیاجارہاہے وزیراعلیٰ اور شاہ فرمان نے وعدہ کیاکہ آپ کو فنڈدیاجائے گا لیکن آج تک ایک پائی جاری نہیں کی جاسکی اس دوران انہوں نے شدیداحتجاج کیا اور کسی کوبولنے نہیں دیاکرک سے تعلق رکھنے والے کابینہ کے رکن مشیربرائے جیل خانہ جات قاسم خٹک نے کہاکہ امجدآفریدی کے ساتھ جو وعدہ کیاگیاہے اسی طرح کے وعدے کرک رائلٹی کے متعلق انکے ساتھ بھی کئے گئے لیکن فنڈجاری نہیں کیاجارہاوزیرخزانہ صرف وعدوں پر ہمیں ٹرخارہے ہیں دیکھادیکھی ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے مشیربرائے بہبودآبادی شکیل خان نے بھی احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ آج تک انہیں بھی ملاکنڈتھری کے رائلٹی فنڈسے محروم رکھاجارہاہے پی پی کے محمدعلی شاہ نے بھی ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے بتایاکہ بتایاجائے انکے حلقے میں واقع ملاکنڈتھری کی رائلٹی ان کو کیوں نہیں دی جارہی چالیس کروڑمیں سے صرف دو کروڑروپے دئیے گئے ہیں اس دوران ایوان میں تمام اراکین بولتے رہے اور کان پڑی آوازسنائی نہیں دے رہی تھی ۔ صوبائی وزیرشاہ فرما ن نے کہاکہ رائلٹی کوہاٹ ڈویژن کا حق ہے

لیکن حکومت پر یہ الزام غلط ہے کہ ایوان میں سب سے زیادہ ٹائم حکومت نے لیا۔صوبائی وزیر مظفرسید نے کہاکہ اصولی طور پر ان سے اتفاق کرتاہوں وزیراعلیٰ اور پی این ڈی کے حکام کے ساتھ ملوں گاتب اس پوزیشن میں ہونگاکہ فنڈکے اجراء کا کیا مسئلہ ہے اس دوران مفتی سید جانان کے کہنے پر ڈپٹی سپیکرمہرتاج روغانی نے تمام پارلیمانی پارٹیوں پر ایک کمیٹی تشکیل دی کہ رائلٹی کے حوالے سے دس دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…