منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حلقہ این اے 154 لودھراں ون کے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی شکست کی اصل وجہ کیا تھی؟ماہرین نے حیرت انگیز دعویٰ کردیا 

datetime 12  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد /لودھراں (مانیٹرنگ ڈیسک) حلقہ این اے 154 لودھراں ون کے ضمنی انتخابات میں نواز شریف کا بیانیہ حلقے کے لیگی قیادت کی بھرپورانداز میں انتخابی مہم ، جہانگیر ترین کی نسبت کمزور امیدوار کا مدمقابل ہونا ، مسلم لیگ (ن) کی فتح کی وجہ بنا ، ان مثبت پہلوؤں کی بنیاد پر (ن) لیگ کے امیدوار کو کامیابی ملی ۔ ماہرین کی آراء پرمبنی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق حلقہ این اے 154 لودھراں ون میں تحریک انصاف کو

دھچکا لگنے اور (ن) لیگ کے امیدوار کی بڑے مارجن سے فتح کی کئی وجوہات ہیں ۔ ماہرین کے مطابق گزشتہ ضمنی انتخابات میں ایک تو مسلم لیگ (ن) کے امیدوار صدیق بلوچ کی جعلی ڈگری کا معاملہ تھا تو دوسرا مضبوط امیدوار جہانگیر ترین خود اس کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے تھے ۔ دوسرا یہ کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا حالیہ بیانیہ بھی لیگی امیدوار کے لئے فتح کا باعث بنا ۔ علاقے کے لیگی رہنما عبدالرحمان خان کانجو نے بھی جان کی بازی لگا کر مہم چلائی وہ بھی جیت کی وجہ ہے ۔ حلقے میں مسلم لیگ (ن) کا کوئی بڑا لیڈر خطاب کرنے نہیں گیا تاہم عمران خان سمیت تحریک انصاف کی قیادت نے حلقے میں جلسے کئے اور زور دار انتخابی مہم چلائی ۔ مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے ایم این ایز ، ایم پی ایز ا ور دیگر بھی تحریک انصاف کے امیدوار علی خان ترین کی مہم چلاتے رہے ۔ واضح رہے کہ عام انتخابات میں صدیق بلوچ نے جہانگیر ترین سے 8 ہزار کے مارجن سے فتح حاصل کی جب کہ بعد میں ضمنی انتخابات میں جہانگیر ترین نے صدیق بلوچ سے تقریباً 40 ہزار کے مارجن سے فتح حاصل کی جب کہ اب علی خان ترین کو مسلم لیگ (ن) کے امیدوار قبال شاہ کے مقابلے میں شکست ہوئی ۔ حلقہ این اے 154 لودھراں ون کے ضمنی انتخابات میں نواز شریف کا بیانیہ حلقے کے لیگی قیادت کی بھرپورانداز میں انتخابی مہم ، جہانگیر ترین کی نسبت کمزور امیدوار کا مدمقابل ہونا ، مسلم لیگ (ن) کی فتح کی وجہ بنا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…