منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قطری شہزادے شکار کی آڑ میں پاکستان میں کون سے افسوسناک کام کرتے رہے؟ جب پاکستان آتے تھے تو ان کے ساتھ کیا کچھ ہوتا تھا اور واپسی پر ۔۔۔! حیرت انگیزانکشافات

datetime 12  فروری‬‮  2018 |

کراچی(نیوزڈیسک)ملک میں شکار کیلئے آنے والے خلیجی معززین کی گاڑیوں کی آڑ میں قیمتی گاڑیاں لانے اور کروڑوں روپے کی کسٹم ڈیوٹی چرانے کا انکشاف ہوا ہے۔کسٹمز ذرائع کے مطابق ستمبر 2016 میں ایک قطری شہزادے کی شکاری پارٹی کے ہمراہ 22 قیمتی گاڑیاں تین ماہ کے خصوصی اجازت نامے پر پاکستان لائی گئیں۔2017 ماڈل کی ان گاڑیوں میں مرسیڈیز، ٹویوٹا لینڈ کروز، وی ایٹ، اور رینج روور چیپیں شامل ہیں۔اجازت نامے کی مدت ختم ہونے کے باوجود یہ گاڑیاں واپس نہیں گئیں

بلکہ پاکستان میں فروخت کردی گئیں۔ذرائع نے بتایا کہ ان نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو خریدنے والوں میں ملک کی اعلیٰ شخصیات شامل ہیں جو ملک بھر میں قطر کی ہی نمبر پلیٹ کے ساتھ سڑکوں پر چل رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق جب کسٹمز حکام نے کراچی میں قطری نمبر پلیٹ لگی تین نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو پکڑا تو انہیں اعلیٰ حکومتی اور سرکاری شخصیات کے زبردست دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔کسٹم حکام نے پکڑی گئی گاڑیاں تو قبضے میں رکھیں تاہم ملزمان کو چھوڑنا پڑا ٗدباؤ اس قدر شدید تھا کہ ملزمان کے شناختی کارڈ اور دیگر تفصیلات بھی لینے سے روک دیا گیا۔کسٹمز ذرائع نے بتایا کہ قطری شہزادے کے ہمراہ لائی گئیں 22 میں سے تین گاڑیاں پکڑی گئی ہیں، تین گاڑیاں لاہور میں فروخت ہوئیں جبکہ باقی گاڑیاں کراچی ڈیفنس کے علاقے گزری لین کے ایک بنگلے میں کھڑی ہیں۔پانچ فروری کو پکڑی گئی تین گاڑیوں کا مقدمہ درج نہیں کیا جاسکا ٗکسٹمز ترجمان کا موقف ہے کہ گاڑیوں کے بارے میں وزات خارجہ کو خط لکھ کر تفصیلات معلوم کی جارہی ہیں۔چند دن قبل فلپائین میں بھی بڑی تعداد میں اسمگل گاڑیاں پکڑی گئیں تھیں اور اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کیلئے تمام قیمتی گاڑیاں بلڈوزر سے تباہ کردی گئیں۔کسٹمز ذرائع نے بتایا کہ پاکستان سینکڑوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اعلیٰ حکام سرکاری اداروں، ارکان اسمبلی اور حکومتی و سیا سی رہنماؤں کے زیر استعمال ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…