جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

’’وزیراعلیٰ پنجاب‘‘ فارورڈ بلاک نہ بنانے اور خاموشی کی قیمت چوہدری نثار نے ڈیمانڈ بتا دی، بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 12  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چوہدری نثار علی خان آئندہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے کی خواہش رکھتے ہیں، نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے ساتھ کام نہ کرنے کی باتیں صرف ایک بہانہ ہے اور وہ مسلسل پارٹی کو یہی پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ انہیں اس عہدے کے لیے آگے لایا جائے،نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کے ساتھ کام کرتے تھے

تب بھی وہ انہیں سر کہہ کر نہیں پکارتے تھے، لہذا اب مریم نواز کے معاملے پر بچوں کے نیچے سیاست نہ کرنے کا تاثر دینے کا اصل مقصد کچھ اور ہے، نبیل گبول کی نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو، اہم انکشاف کر ڈالا، ‘مریم نواز جس بھی جلسے میں جاتی ہیں عوام ان کے ساتھ ہوتی ہے، بظاہر یہی لگتا ہے کہ عوام کی خواہش ہے کہ مریم نواز کو آگے لایا جائے، مریم کو پارٹی یا خود نواز شریف نے انتخابات کے بعد کوئی عہدہ دینے کا فیصلہ نہیں کیا ، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے معاون خصوصی ڈاکٹر مصدق ملک نے بھی بڑی خبر دیدی۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نبیل گبول نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ چوہدری نثار علی خان آئندہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے کی خواہش رکھتے ہیں، نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے ساتھ کام نہ کرنے کی باتیں صرف ایک بہانہ ہے اور وہ مسلسل پارٹی کو یہی پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ انہیں اس عہدے کے لیے آگے لایا جائے،نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کے ساتھ کام کرتے تھے تب بھی وہ انہیں سر کہہ کر نہیں پکارتے تھے، لہذا اب مریم نواز کے معاملے پر بچوں کے نیچے سیاست نہ کرنے کا تاثر دینے کا اصل مقصد کچھ اور ہے۔ پروگرام میں شریک وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے معاون خصوصی

اور ن لیگ کے رہنما ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ بظاہر یہی لگتا ہے کہ عوام کی خواہش ہے کہ مریم نواز کو آگے لایا جائے، مریم کو پارٹی یا خود نواز شریف نے انتخابات کے بعد کوئی عہدہ دینے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مریم نواز جس بھی جلسے میں جاتی ہیں عوام ان کے ساتھ ہوتی ہے اور اگر وہ ایک رہنما کے طور پر ابھر کرسامنے آرہی ہیں تو اس کی وجہ بھی ان کی عوامی مقبولیت ہی ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل چوہدری نثار نے ٹیکسلا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ وہ مریم نواز یا حمزہ شہباز کے ماتحت کام نہیں کرینگے۔وہ اپنے لیے پارٹی کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل تیار کر سکیں۔ انہوں نے واضح طور پر پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ 8 ماہ سے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوا،

اگر پارٹی کے اندر سیاست میں متحرک ہوا تو پارٹی کے لیے مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔ دوسری جانب لیگ (ن) میں یہ بات مستقل زیر بحث ہے کہ آئندہ انتخابات میں مریم نواز کو غیر معمولی ذمہ داریاں دی جانے کا امکان ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…