منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عاصمہ جہانگیر کی آخری گفتگو،ایک چیخ کی آواز آئی اور پھر دوسری طر ف سے فون گر گیا، معروف قانون دان اعظم نذیر تارڑ کے افسوسناک انکشافات

datetime 11  فروری‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی )معروف قانون دان اعظم نذیر تارڑ نے نے کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر مجھ سے فون پر بات کررہی تھیں کہ دوسری طرف اچانک فون گرگیا ،میرے بار بار کی کوشش کے باوجود رابطہ نہ ہو سکا اور کافی دیر بعد مجھے بتایا گیا کہ انہیں ہسپتال لیجایا گیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میری عاصمہ جہانگیر سے ٹیلیفون پر بات ہو رہی تھی کہ کسی چیخ کی آواز آئی اور دوسری طرف سے فون گر گیا ،میں سمجھا کہ شاید کوئی بچہ گر گیا ہے اور اس کے بعد بار بار کی

کوشش کے باوجود رابطہ نہ ہو سکا ۔ کافی دیر بعد دوبارہ رابطہ ہونے پر مجھے بتایا گیا کہ انہیں طبیعت بگڑنے پر ہسپتال لیجایا گیا اور پھر ان کے انتقال کی خبر آ گئی۔دریں اثناء معروف قانون دان اورانسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کے انتقال کی اطلاع پر ان کی رہائشگاہ پر تعزیت کے لئے آنے والوں کا تانتا بندھ گیا ۔تفصیلات کے مطابق اتوار کی دوپہر میڈیا پر عاصمہ جہانگیر کے انتقال کی خبر نشر ہوتے ہی اعلیٰ عدلیہ کے ججز صاحبان ،جوڈیشل افسران ،سماجی و سیاسی شخصیات ،ان کے عزیز و اقارب اور وکلاء کی کثیر تعداد ان کی رہائشگاہ پر پہنچ گئے اور اہل خانہ سے تعزیت کی ۔ عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر ان کی رہائشگاہ پر اظہار تعزیت کے لئے آنے والوں میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ ، جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس شیخ عظمت سعید ، جسٹس منظور احمد ملک ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد یاور علی ،جسٹس عابد عزیز شیخ، سابق چیف جسٹس تصدیق حسین جیلانی ،مسلم لیگ (ق ) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین، وفاقی وزراء دانیال عزیز، طلال چوہدری، سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری،تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شفقت محمود، پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر اعتزاز احسن، کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی،چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض، جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال، اٹارنی جنرل اوشتر اوصاف،سابق وزیر اعلیٰ میاں منظور وٹو ،سابق وزیرقانون زاہد حامد ، مفتی عبد القوی سمیت وکلاء تنظیموں کے عہدیداروں سمیت وکلاء کی کثیر تعداد شامل ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…