پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

عاصمہ جہانگیر کی آخری گفتگو،ایک چیخ کی آواز آئی اور پھر دوسری طر ف سے فون گر گیا، معروف قانون دان اعظم نذیر تارڑ کے افسوسناک انکشافات

datetime 11  فروری‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی )معروف قانون دان اعظم نذیر تارڑ نے نے کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر مجھ سے فون پر بات کررہی تھیں کہ دوسری طرف اچانک فون گرگیا ،میرے بار بار کی کوشش کے باوجود رابطہ نہ ہو سکا اور کافی دیر بعد مجھے بتایا گیا کہ انہیں ہسپتال لیجایا گیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میری عاصمہ جہانگیر سے ٹیلیفون پر بات ہو رہی تھی کہ کسی چیخ کی آواز آئی اور دوسری طرف سے فون گر گیا ،میں سمجھا کہ شاید کوئی بچہ گر گیا ہے اور اس کے بعد بار بار کی

کوشش کے باوجود رابطہ نہ ہو سکا ۔ کافی دیر بعد دوبارہ رابطہ ہونے پر مجھے بتایا گیا کہ انہیں طبیعت بگڑنے پر ہسپتال لیجایا گیا اور پھر ان کے انتقال کی خبر آ گئی۔دریں اثناء معروف قانون دان اورانسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کے انتقال کی اطلاع پر ان کی رہائشگاہ پر تعزیت کے لئے آنے والوں کا تانتا بندھ گیا ۔تفصیلات کے مطابق اتوار کی دوپہر میڈیا پر عاصمہ جہانگیر کے انتقال کی خبر نشر ہوتے ہی اعلیٰ عدلیہ کے ججز صاحبان ،جوڈیشل افسران ،سماجی و سیاسی شخصیات ،ان کے عزیز و اقارب اور وکلاء کی کثیر تعداد ان کی رہائشگاہ پر پہنچ گئے اور اہل خانہ سے تعزیت کی ۔ عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر ان کی رہائشگاہ پر اظہار تعزیت کے لئے آنے والوں میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ ، جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس شیخ عظمت سعید ، جسٹس منظور احمد ملک ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد یاور علی ،جسٹس عابد عزیز شیخ، سابق چیف جسٹس تصدیق حسین جیلانی ،مسلم لیگ (ق ) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین، وفاقی وزراء دانیال عزیز، طلال چوہدری، سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری،تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شفقت محمود، پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر اعتزاز احسن، کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی،چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض، جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال، اٹارنی جنرل اوشتر اوصاف،سابق وزیر اعلیٰ میاں منظور وٹو ،سابق وزیرقانون زاہد حامد ، مفتی عبد القوی سمیت وکلاء تنظیموں کے عہدیداروں سمیت وکلاء کی کثیر تعداد شامل ہے ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…