پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

میرے ساتھ دھوکہ ہوا،ایم کیو ایم کے تمام رہنماؤں کے سینٹ کے ٹکٹ خطرے میں پڑ گئے، فاروق ستار نے دھماکہ خیز اقدام کا اعلان کردیا

datetime 11  فروری‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی) ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاہے کہ سینیٹ انتخابات کے لیے ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی کودیے گئے ٹکٹ دینے کے اختیارات کوچیلنج کرنے کا حق رکھتا ہوں جس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا وہاں میں موجود نہیں تھا بحیثیت ڈپٹی کنوینر پارٹی آئین کے مطابق تنظیمی و سیاسی کاموں میں خالد مقبول صرف میری مدد کرسکتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے الیکشن کمیشن کے باہرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ ان کے ہمراہ کامران ٹیسوری علی رضا عابدی

دیگرپارٹی رہنما بھی موجود تھے۔ ڈاکٹرفاروق ستارنے کہاکہ بہت مختصر نوٹس پر مجھے الیکشن کمیشن بلوایا گیا،ٹکٹ دینے کے اختیارات خالد مقبول صدیقی کو دیے گئے اوریہ فیصلہ ایک ایسی میٹنگ میں ہوا جہاں میں موجود نہیں تھا،اس فیصلے کو مجھے چیلنج کرنے کا حق ہے اورمیں اسے چیلنج کروں گا انہوں نے کہاکہ اگر خالد مقبول بھائی کے ٹکٹ دینے کے اس خط کو آگے غلط استعمال کیا جا سکتا ہے جس پرمیں یہ حق محفوظ رکھتا ہوں کہ ان سے اختیارات واپس لے لوں۔ آرٹیکل سیون اے میں میرا اختیار ہے کہ میں اجلاس بلاوں اورآرٹیکل سیون سی میں ڈپٹی کنوینیئر کو یہ اختیارات تب ہونگے جب کنوینیئر عدم دستیاب ہو، آرٹیکل 9 اے میں رابطہ کمیٹی کو دو تہائی اکثریت حا صل ہے، اب تک جو بھی اجلاس میری صدارت کے بغیر ہوئے ہیں انہیں چیلنج کیا جاسکتا ہیپارٹی آئین کے مطابق ڈپٹی کنوینیئر کے ذمہ مخصوص کام ہیں انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ کے اجراء کا اختیارنہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نہیں چاہتا کہ یہ معاملہ عدالتوں میں جائے کل تک جو فارمولہ طے ہوا اس پر عمل ہوگا،رابطہ کمیٹی کو شوکاز پارٹی کے اصولوں سے انحراف پرجاری کیا ہے انہوں نے کہاکہ رابطہ کمیٹی کیا راکین اور پارلیمینٹرینز میرے ساتھ ہیں انکی مشاورت سے اجلاس میں فیصلہ کرینگے کہ بہادرآباد اجلاس میں جائیں یا نہیں ڈاکٹرفاروق ستار نے الیکشن کمشنرسندھ یوسف خٹک کے

فیصلے پربھی تنقید کی اورکہاکہ ریٹرنگ افسر نے نقطہ نظر سمجھے بغیر فیصلہ دیا چاہا الیکشن کمیشن کو وہ لیٹر طلب کرنا چاہیئے تھا جس کے تحت میں نے خالد مقبول کو ایسا اختیار دیا ہو،آرٹیکل 7 سی میں ہے کہ ڈپٹی کنوینیر کنوینیئر کو اسسٹ کرسکتا ہے انہوں نے کہاکہ میں نے کہا تھا کہ سارے اجلاس میرے بغیر ہوئے انہیں چیلنج کیا جاسکتا ہے چیلنج کرنے اور سوال کرنے کا اختیار رکھتا ہوں مگرریٹرننگ افسرنے ان معاملات کونہیں دیکھا ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…