جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

وہ اعزاز جوعاصمہ جہانگیر کے علاوہ آج تک کوئی پاکستانی خاتون حاصل نہ کرسکی

datetime 11  فروری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور(آئی این پی) معروف قانون دان مر حومہ عاصمہ جہانگیر کو سپریم کورٹ بار کی پہلی اور آخری خاتون صدر ہونے کا اعزاز‘حکومت پاکستان نے 2010 میں ہلال امتیاز سے نوازا‘ جنرل ضیاء کے مارشل لا کے خلاف جمہوریت بحالی کی تحریک میں حصہ لیا اور 1983 میں جیل بھی کاٹی، بینظیر بھٹو اور عاصمہ جہانگیر بچپن کی سہیلیاں تھیں لیکن دوستی کے باوجود عاصمہ جہانگیر نے بینظیر بھٹوکی سیاسی مخالفت کی۔تفصیلات کے مطابق

عاصمہ جہانگیر نے عدلیہ بحالی کی تحریک میں اہم کرداراداکیااور 2007 میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہوئیں، وہ پاکستان کی پہلی خاتون ہیں جو اس عہدے پر فائز ہوئیں، عاصمہ جہانگیر کے بعد اب تک کوئی بھی خاتون سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر منتخب نہیں ہوسکی عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کولاہورمیں پیداہوئیں ، انہوں نے 1978 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیاعاصمہ جہانگیر نے ضیا کے مارشل لا کے خلاف جمہوریت بحالی کی تحریک میں حصہ لیا اور 1983 میں جیل بھی کاٹی، بینظیر بھٹو اور عاصمہ جہانگیر بچپن کی سہیلیاں تھیں لیکن دوستی کے باوجود عاصمہ جہانگیر نے بینظیر بھٹوکی سیاسی مخالفت کی۔ عاصمہ جہانگیرانسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے بانیوں میں سے تھیں، دریں اثنا عاصمہ جہانگیر ایڈ وکیٹ نے مقبوضہ کشمیرمیں ہونیوالے مظالم کا جائزہ لینے بھی گئی اور اقوام متحدہ کو رپورٹ میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق عاصہ جہانگیر پچھلے سال اقوام متحدہ کے ریپورٹیر کی حیثیت سے سری نگر گئی تھیں اور پھر واپس آ کر انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کو اندھا کرنے کے معاملے پر بہت ہی بھرپور موقف اپنایا تھا

ان کے بھرپور موقف اپنانے کے باعث مقبوضہ کشمیر کے لوگ بھی ان سے بہت محبت کرنے لگے تھے۔ دریں اثنا سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر جمعہ کو آخری مرتبہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں جہاں ایک معطل اے ایس آئی کی ملازمت پر بحالی میں اپنا کردار ادا کیا۔تفصیلات کے مطابق عاصمہ جہانگیر ایڈوکیٹ انسانی حقوق اور غیر یبوں کی مدد کیلئے بھی ہمیشہ آگے آگے رہی ہیں اور وہ جمعہ کو آخری بارسپر یم کورٹ میں پیش ہوئیں ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…