منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گستاخ رسول کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل، معافی مانگنے پر رہائی، توہین رسالت قانون کو چھیڑنے کی ایک اور گھنائونی کوشش بے نقاب،خاموشی سے کیا کام کیا جا رہا تھا

datetime 10  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)توہین رسالت قانون کو مسلسل چھیڑنے کی کوششیں جاری، خاموشی کے ساتھ سینٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے خاتون سینیٹر کی جانب سے توہین رسالت قانو ن میں ترمیم کیلئے پیش کردہ ترمیمی بل پرسنجیدگی سے جائزہ لینا شروع کر دیا۔ ایک مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق توہین رسالت قانون کو مسلسل چھیڑنے کی کوششیں جاری ہیں اور سینٹ کی انسانی حقوق کی

کمیٹی نے خاتون سینیٹر کی جانب سے توہین رسالت قانون میں ترمیم کیلئے پیش کردہ ترمیمی بل کا سنجیدگی سے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے ۔ بل میں توہین رسالت کے قانون میں ضابطہ کار ترمیمی بل میں 2ترمیم تجویز کی گئی ہیں جن کے مطابق رسالت کے جرم میں سزائے موت پانے والے گستاخ رسول کی سزا عمر قید میں بدلنے کی اور توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے کو اپنے فعل پر ندامت کا اظہار کرنے پر معاف کر دینے کی کوششں شامل کرنے کی ترمیم شامل کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ ان ترمیم کیلئے بل میں یہ وجہ درج کی گئی ہے کہ نبی پاکؐ نے اپنی زندگی میں بھی گستاخان رسولؐ کو معاف کیا تھا اس لئے گستاخ رسولؐ کو معاف کرنے کی شق بھی ہونا چاہئے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف)کمیٹی کے رکن سینیٹر مفتی عبدالستار ترمیم کی منظوری میں رکاوٹ بن گئے ہیں اور کمیٹی ارکان پر واضح کر دیا ہے کہ وہ توہین رسالت کے قانون میں ذرا سی نقطے کی بھی تبدیلی برداشت نہیں کرینگے اور اگر کمیٹی نے توہین رسالت کا بل زبردستی پاس کر کے سینیٹ سے منظور کرانے کی کوشش کی تو وہ اس کا مقدمہ علما اور عوام کی عدالت میں لے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ میں کود اس چیز کے حق میں ہوں کہ جو مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی یا کسی اور اہل مذہبی کے پیروکار پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام عائد کرے تو اس کی سزا بھی توہین رسالت جیسی ہونی چاہئے لیکن ایسی باتوں

کو بنیاد بنا کر توہین رسالت کے قانون کی شکل بگاڑنے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ معاف کرنے کا حق صرف نبی پاکؐ کو ہی ہے اور وہ خود ہی معاف کر سکتے تھے لیکن اس وقت وہ اہم میں موجود نہیں ہیں تو ہمیں گستاخ رسول کو معافی کرنے کا بھی کوئی اختیار نہیں ہے اس لئے اس قانون میں کسی قسم کی زیر زبر کی تبدیلی بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں

کہ ان ارکان کی ڈوریاں بیرون ملک کہاں سے ہلائی جا رہی ہیں۔ ترمیم کو بدلنے کے خلاف تحریک لبیک یا رسول اللہ، جماعت اسلامی جمعۃ المبارک 16فروری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…