منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بیٹی لاپتہ لیکن پولیس مدد نہیں کر رہی ،قصور کا شہری ہائیکورٹ پہنچ گیا،جواب مانگنے پر ڈی پی اونے ایسی بات کہہ دی کہ آپ کو بھی شدید غصہ آئیگا

datetime 9  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کے شہر قصور میں گزشتہ ایک سال کے دوران  زینب سمیت  12 بچیاں قتل ہوچکی ہیں لیکن پولیس کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں اور فرائض کی ادائیگی کی بجائے ان سے فرار کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے۔ پولیس کی بے حسی کا ایک مظاہرہ لاہور ہائیکورٹ میں بھی دیکھنے کو ملا جہاں ایک شخص نے عدالت نے درخواست جمع کرائی کہ اس کی بیٹی لاپتہ ہے لیکن پولیس کوئی مدد نہیں کرر ہی اور اسے بازیاب نہیں

کرایا جا رہا ۔ ہائیکورٹ کے حکم پرڈی پی او قصور زاہد نواز عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت کے استفسار پر ڈی پی او قصور زاہد نواز نے بتایا کہ لڑکی پولیس کی حراست میں نہیں ہے۔ ڈی پی او کے جواب پر عدالت نے اظہار برہمی کیا اور کہا کہ 8 بچیاں زیادتی کے بعد قتل ہوجاتی ہیں اور آپ کو پتہ نہیں چلتا۔ لاہور ہائیکورٹ نے ڈی پی او قصور کو 4 ہفتے میں لڑکی کی بازیابی کا حکم دے دیا۔واضح رہے کہ بچوں کے اغوا اور زیادتی میں بیشتر اپنے ہی رشتے دار ملوث پائے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…