جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بیٹی لاپتہ لیکن پولیس مدد نہیں کر رہی ،قصور کا شہری ہائیکورٹ پہنچ گیا،جواب مانگنے پر ڈی پی اونے ایسی بات کہہ دی کہ آپ کو بھی شدید غصہ آئیگا

datetime 9  فروری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب کے شہر قصور میں گزشتہ ایک سال کے دوران  زینب سمیت  12 بچیاں قتل ہوچکی ہیں لیکن پولیس کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں اور فرائض کی ادائیگی کی بجائے ان سے فرار کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے۔ پولیس کی بے حسی کا ایک مظاہرہ لاہور ہائیکورٹ میں بھی دیکھنے کو ملا جہاں ایک شخص نے عدالت نے درخواست جمع کرائی کہ اس کی بیٹی لاپتہ ہے لیکن پولیس کوئی مدد نہیں کرر ہی اور اسے بازیاب نہیں

کرایا جا رہا ۔ ہائیکورٹ کے حکم پرڈی پی او قصور زاہد نواز عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت کے استفسار پر ڈی پی او قصور زاہد نواز نے بتایا کہ لڑکی پولیس کی حراست میں نہیں ہے۔ ڈی پی او کے جواب پر عدالت نے اظہار برہمی کیا اور کہا کہ 8 بچیاں زیادتی کے بعد قتل ہوجاتی ہیں اور آپ کو پتہ نہیں چلتا۔ لاہور ہائیکورٹ نے ڈی پی او قصور کو 4 ہفتے میں لڑکی کی بازیابی کا حکم دے دیا۔واضح رہے کہ بچوں کے اغوا اور زیادتی میں بیشتر اپنے ہی رشتے دار ملوث پائے گئے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…