منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’شیریں مزاری کی اف اف توبہ توبہ‘‘

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی)سرکاری پراسیکیوٹرز کے دلائل پر ’’شیریں مزاری اف اف توبہ توبہ کرتی رہیں‘‘۔تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت میں پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کی سماعت کے دوران کے پراسیکیوٹر جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قومی اداروں پر حملے کیلئے پی ٹی آئی رہنمااپنے ساتھ مسلح لوگوں کولائے،دھرنے کے دوران 3 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، ان کا کہناتھا کہ دھرنے میں ہلاکتوں کی ذمہ داری پی ٹی آئی قیادت پرآتی ہے۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ شیریں مزاری بھی سرکاری عمارتوں پرحملے میں ملوث تھیں،سرکاری عمارتوں پرحملے کاالزام میں شیریں مزاری کوبھی گرفتارکرناہے۔پراسیکیوٹر جنرل کے دلائل جاری تھے تواس دوران پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری ’’ اف اف توبہ توبہ‘‘ کرتی رہیں۔دریں اثنا تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارے خلاف مقدمات سیاسی ہیں،سرکاری وکیل کے پاس کوئی شواہد نہیں،ہم پرمن گھڑت الزام لگائے گئے جس کا کوئی ثبوت نہیں،،جھوٹے الزامات کوثابت کرنے کیلئے بات کابتنگڑ بنایاگیا۔انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلحہ خریدنے،بانٹنے اوراستعمال کرنے کاالزام لگایاگیا، کہاگیاہم نے لوگوں کواکسایااورسرکاری املاک پرحملہ کیا،انہوں نے کہا کہ ہماری عبوری ضمانتیں ہوچکی تھیں،آج توثیق کی تاریخ تھی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ شیریں مزاری کانام ایف آئی آرمیں نہیں تھا،ان کا نام بلاوجہ ڈالاگیا،عدالت نے شیریں مزاری کیخلاف مقدمہ خارج کرتے ہوئے انہیں بیگناہ قراردے دیا۔تحریک انصاف کے رہنمانے کہا کہ ن لیگ سیاسی جلسے حکمت عملی کے تحت کررہی ہے،عوام میں تاثرپیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مقدمات سیاسی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم پرمن گھڑت الزام لگائے گئے جس کا کوئی ثبوت نہیں،جھوٹے الزامات کوثابت کرنے کیلئے بات کابتنگڑ بنایاگیا۔انہوں نے کہاکہ ن لیگ تحریک انصاف کیخلاف انتقامی کارروائی پر اتر آئی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…