پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

توہین مذہب کے مبینہ الزام میں قتل کیے جانے والے مشال خان کے والد اب کہاں ہیں؟حیرت انگیزانکشاف،عدالتی فیصلے پرشدید ردعمل سامنے آگیا

datetime 7  فروری‬‮  2018 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں واقع عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے مبینہ الزام میں قتل کیے جانے والے مشال خان کے والد اقبال لالہ نے کہا ہے کہ یہ بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ اتنے واضح ویڈیوز اور دیگر ثبوتوں کے باوجود 26 ملزمان کو کیسے رہا کردیا گیا۔مشال خان کو گذشتہ برس طلبا اور یونیورسٹی کے کچھ ملازمین پر مشتمل ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔

بدھ کو عدالت نے جہاں اس مقدمے میں ایک مجرم کو سزائے موت اور 30 کو قید کی سزائیں دی ہیں وہیں 26 کو بری کر دیا گیا ہے۔برطانیہ کے شہر برمنگھم سے گفتگو کرتے ہوئے اقبال لالہ نے کہا کہ لگتا ایسا ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ میں نے تمام تر دباؤ اور مشکلات کے باوجود یہ مقدمہ اور جنگ اکیلے لڑی اور مقصد یہ تھا کہ پاکستان کا چہرہ واضح اور روشن ہو جائے اور ملک کے مستقبل کے مشالوں کو تحفظ ملے لیکن فیصلے سے لگتا ہے کہ انصاف متزلزل ہوا ۔انھوں نے کہا کہ عدالت کی طرف سے جن ملزمان کو رہا کیا گیا ان کے خلاف وہ ہائی کورٹ جائیں گے اور اپیل کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔خیال رہے کہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بری کیے جانے والے ملزمان نے مشال خان پر تشدد میں حصہ نہیں لیا تھا اور وہ یا تو صرف وہاں کھڑے تھے یا پھر ویڈیوز بنا رہے تھے۔اقبال لالہ کے مطابق یہ مقدمہ صرف میرے بیٹے کے قتل کا نہیں تھا بلکہ اس کیس میں حکومت کی عملداری کو چیلنج کیا گیا تھا تو ایک لحاظ سے یہ ریاست کی رٹ کی دھجیاں اڑائی گئی تھیں اور اگر ایسی صورت میں انصاف نہیں ملتا ہے تو اس سے ریاست کا بھی نقصان ہوا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ اچھا فیصلہ ہے کہ اگر صوبائی حکومت رہا ہونے افراد کے خلاف عدالت جاتی ہے۔ تاہم انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ابتدا ہی صوبائی حکومت کی طرف کے ساتھ وہ مدد نہیں کی گئی جس کی وہ توقع کررہے تھے۔مشال خان کے والد اقبال لالہ گزشتہ ماہ ایک تقریب میں شرکت کرنے کیلئے برطانیہ گئے تھے جہاں وہ بدستور مقیم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…