اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

سانحہ قصور کے بعد راولپنڈی میں لرزہ خیز وارداتیں، 5سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش ،روحانی باپ پر بھی شیطان غالب آگیا، 12 سالہ بچی کے اغوا کی کوشش ناکام 

datetime 26  جنوری‬‮  2018 |

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ قصور کے بعد راولپندی میں کم سن بچیوں کے اغوا اور جنسی زیادتی کے پے درپے واقعات سے راولپندی میں شدید خوف وہراس پیدا ہو گیا تھانہ صدر بیرونی کے علاقے ڈھوک لکھن میں 5سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کے ساتھ تھانہ روات کے علاقے میں روحانی باپ پر بھی شیطان غالب آگیا جبکہ تھانہ نصیر آباد کے علاقے میں اہل علاقہ نے 12 سالہ بچی کے اغوا کی کوشش ناکام بنا دی

شور مچانے پر مقامی افراد نے 2 اغوا کار پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیئے جس کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے ایک اور ننھی پری درندے کی حوس کا نشانہ بن گئی ادھرڈھوک لکھن میں 5 سالہ ملائکہ دخترنور خان کے ساتھ زیادتی کا ایک اور واقعہ اس وقت پیش آیا جب5سالہ ملا ئکہ مبینہ طور پراپنے گھر کے قریبی دکاندار کی مبینہ ہوس کا نشانہ بن گئی گھر واپسی پربچی کی طبیعت بگڑنے پر اس کا والد اسے مقامی ڈاکٹر کے پاس لے کرگیا جہاں ڈاکٹر نے تشخیص کے بعد زیادتی کا شبہ ظاہر کیا جس پر اہل علاقہ بچی کو اس دوکاندار کے پاس لے کر گئے اور پولیس کو اطلاع دی بچی کی نشاندہی پر دوکاندار کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ بچی کوبے نظیر بھٹو ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ہسپتال انتظامیہ کا موقف تھاکہ9 سال سے کم عمر بچی کی رپورٹ نہیں دے سکتے جس پر بچی کو ہولی فیملی منتقل کیا گیابچی کے لواحقین کے مطابق زیادتی کی تصدیق ہو گئی دریں اثنابچی کے والد نے روزنامہ جناح کو رابطہ کرنے پر بتایا کہ میں چکرروڈ کے علافہ ڈھوک لکھن کا رہائشی ہوں ایک مزدور اور غریب آدمی ہوں صبح مزدور ی کرنے گیا اور واپس آیا تو گھر میں میری بیٹی موجود نہیں تھی میرے پوچھنے پر زوجہ نے بتایا کہ کافی دیر ہو گئی ہے وہ دوکان پر گی تھی لیکن واپس نہیں آئی میں اس کو ڈھونڈے کیلئے گیا تو دوکان کا شٹر آدھا بند تھا جس پر میں نے دوکان کا شٹر کھولا تو دوکاندار مسعود اس کے ساتھ زیادتی کر رہا تھا

بچی چیخ وپکار کر رہی تھی اور اس کے چھوٹے بڑے پیشاب کی جگہ سے خون آ رہا تھا اس دوران میں بچی کو اٹھا رہا تھا کہ ملزم مسعود بھاگ گیا ادھر تھانہ روات پولیس نے 3 کم سن طالبات سے مبینہ زیادتی اور فحش حرکات کے الزام میں سکول ٹیچر کو گرفتار کر لیامبینہ زیادتی اور فحش حرکات کا شکار ہونے والی تینوں بچیون کی عمر 7،9 اور 11 سال بتائی جاتی ہے متاثرہ بچی کی والدہ نے الزام لگایا کہ شکیل نامی سکول ٹیچرنے بچیوں کے ساتھ زیادتی ہم نے بچی کو پڑھنے کے لئے بھیجا تھا لیکن استادنے میری یتیم بچی کے ساتھ زیادتی کی ایس ایچ اوروات کمال نیازی کے مطابق شکیل نامی ملزم کو گرفتار کر لیاگیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…