اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

امریکا اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے ،امریکی دھمکیاں اور ناقابل قبول زبان پر پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا،اہم ممالک سے مدد طلب کرلی

datetime 26  جنوری‬‮  2018 |

برسلز (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے یورپ کے پارلیمانی حلقوں سے کہا ہے کہ یورپ پاک امریکا تعلقات میں بہتری کیلئے مدد کرے ٗپاکستان ایک خود مختار ملک ہے، امریکی قیادت کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان ناقابل قبول ہے، اس سے افغانستان میں قیام امن کیلئے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔یورپین پارلیمنٹ میں فارن افیئرز کمیٹی، ساؤتھ ایشیا ڈیلی گیشن،

پارلیمنٹ میں موجود مختلف پارلیمانی گروپس کے سربراہوں اور کئی ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ غیر ملکی اور پاکستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے، امریکی قیادت کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان ناقابل قبول ہے، اس سے افغانستان میں قیام امن کیلئے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں بد امنی کا ذمہ دار نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردی کے فروغ کے اثرات پاکستان پر بھی ہوں گے ۔وزیر دفاع نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکا اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے ٗ افغانستان کا 40 فیصد سے زائد رقبہ وہاں کی حکومت کی عملداری میں نہیں، داعش وہاں پنپ رہی ہے ، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال افغانستان میں افیون کی ریکارڈ پیداوار حاصل کی گئی جو بذات خود بد امنی کی ایک بڑی وجہ ہے، ان تمام مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔خرم دستگیر خان نے کہا کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے سیکھنے کی ضرورت ہے، پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف طویل المدت اور قلیل عرصے کے منصوبے ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد کے نام سے جاری ہیں ٗ پاکستان نے اپنے قبائلی علاقوں سے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں کو نکالا، علاقے سے دہشتگردوں کا خاتمہ کیا اور لوگوں کو واپس ان کے گھروں میں بسایا جبکہ دوسرے آپریشن میں ریا ستی ادارے شہروں سے چن چن کر دہشت گردوں کا خاتمہ کر رہے ہیں ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 30 لاکھ افغان مہاجرین قیام پذیر ہیں جن کی 40 سال سے میزبانی کر رہے ہیں، افغانستان سے ہزاروں افراد روزانہ پاکستان میں آتے ہیں، ہماری گزارش ہے کہ اس سارے عمل کو دستاویزی بنایا جائے اور انہیں احترام کے ساتھ ان کے گھروں میں بسایا جائے تاہم اس حوالے سے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا جاتا، اسی طرح کراس بارڈر ٹیرر ازم کے الزام پر جب ہم نے سرحد پر باڑ لگانی شروع کی تو اس میں بھی تعاون نہیں کیا گیا، یہ باڑ پاکستان مکمل طور پر اپنے وسائل سے لگا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…