اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

2015ء کے قصور ویڈیواسکینڈل کے 17میں سے 10ملزمان کو کیوں رہا کردیاگیا؟رکن صوبائی اسمبلی کی متاثرہ بچوں کو رقم کی پیشکش،صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا

datetime 26  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ 2015ء کے قصور اسکینڈل کے معاملے پر اگر کسی کی کوتاہی نظر آئی تو نوٹس لینے کو تیار ہیں، متاثرین کو مکمل قانونی معاونت فراہم کی گئی تھی،اگر ریاست ہر گھر کے معاملات طے کرنے لگ جائے گی تو پرائیوسی ختم ہوجائے گی۔2015ء کے قصور اسکینڈل سے متعلق نجی ٹی وی کے خصوصی فیچر پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی

جس نے بڑی محنت سے تفتیش مکمل کی اور چالان جمع کروایا۔کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چل رہا ہے اور پراسیکیوشن کا محکمہ متاثرین کی معاونت کے لیے موجود ہے۔جب ان سے رکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے ساڑھے چار لاکھ روپے متاثرین کو دینے کی پیشکش سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ کیس عدالت میں چلا رہا ہے، جب پیشکش کی گئی تھی تو عدالت سے رجوع کیا جانا چاہیے تھا۔جب ان سے 17میں سے 10ملزمان کی ضمانت پر رہائی سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ سزا اور جزا کا تعین عدالت نے کرنا ہے، اس کیس کو پریس کانفرنس اور تقاریر کے لیے استعمال کیا جائے گا تو معاملہ حل کی جانب نہیں بڑھ سکے گا۔متاثرہ بچوں کی کونسلنگ سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ بات اٹھائی گئی تھی کہ تاہم والدین تیار نہیں ہوئے جبکہ بچے بھی اپنا گھر اور گاں چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ معاملے پر متاثرین کو مکمل قانونی معاونت فراہم کی گئی تھی۔اگر ریاست ہر گھر کے معاملات طے کرنے لگ جائے گی تو پرائیوسی ختم ہوجائے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جیلوں میں قید تمام ملزمان کی ڈی این اے پروفالنگ کروانے کی سمری انسپکٹر جنرل پولیس کو بھجوا دی گئی ہے، اس سے قبل ملزمان کی ڈی این اے پروفائلنگ کروانے کی سمری سابقہ آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا کو بھی بھجوائی گئی تھی جنہوں نے اسے مسترد کر دیا تھا ۔ جبکہ پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی ڈی این اے پروفائلنگ کروانے سے جرائم میں قابو پانے میں آسانی ہو گی اور تحقیقات کرنے میں بھی مدد ملے گی ۔ کریمنل ریکارڈ کو موثر بنانے کے لئے ڈی این اے پروفائلنگ کے ساتھ ساتھ ملزمان کے فنگر پرنٹس اور تصاویر بھی لی جائیں گی ۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…