منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں اسحاق ڈار، ان کی اہلیہ اور کمپنیوں کے بینک اکائونٹس کی تفصیلات احتساب میں عدالت میں پیش

datetime 26  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں اسحاق ڈار، ان کی اہلیہ اور کمپنیوں کے بینک اکائونٹس کی تفصیلات احتساب میں عدالت میں پیش کردی گئی ہیں۔ جمعہ کو سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب ریفرنس کی سماعت جس میں استغاثہ کے گواہ محمد نعیم، ظفر اقبال اور قابوس عزیز پیش ہوئے۔ استغاثہ کے گواہ ظفر اقبال نیب لاہور کے بنکنگ ایکسپرٹ ہیں ۔

محمد نعیم کا تعلق ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن لاہور سے ہے جبکہ قابوس عزیز سابق ڈائریکٹر نادرا ہیں، گزشتہ سماعت پر ان کا بیان مکمل نہیں ہوسکا تھا۔اس موقع پر عدالت میں اسحاق ڈار، ان کی اہلیہ اور کمپنیوں کے بینک اکائونٹس کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں، بینک کریڈٹ رپورٹ 4 صفحات پر مشتمل ہے۔استغاثہ کے گواہ محمد نعیم نے عدالت کو بتایا کہ 15 اگست کو نیب لاہور کی جانب سے خط موصول ہوا اور 22اگست کو نیب لاہور میں تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوا جس میں اسحاق ڈار اور ان کے فیملی ممبرز کے حوالے سے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔سماعت کے دوران استغاثہ کے دوسرے گواہ ظفر اقبال مفتی نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگست 2017 کو اسحاق ڈار، فیملی ممبران اور کمپنیوں کے اکائونٹ کی تفصیلات مانگی گئیں، اسٹیٹ بینک نے معلومات طلبی کے لیے مختلف بنکوں کو سمن کیے، رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار، اہلیہ اور کمپنی کے 15 اکائونٹس تھے جن میں 9 اکائونٹس البرکا بنک میں تھے، البرکا بنک میں موجود اکائونٹس میں سے 8 کمپنی جبکہ ایک تبسم اسحاق کا تھا۔استغاثہ کے گواہ ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ الائیڈ بینک پارلیمنٹ ہائوس برانچ میں اسحاق ڈار کے اکائونٹ میں 8کروڑ 46 لاکھ 78 ہزار 10 روپے موجود تھے، اسحاق ڈار کے بینک الفلاح کے اکائونٹ میں 49 لاکھ 77 ہزار 781 روپے جبکہ حبیب بینک کے اکائونٹ میں58 لاکھ 83 ہزار 463 روپے موجود تھے۔

انہوںنے کہاکہ اسحاق ڈار، ان کی اہلیہ اور کمپنیز کے اکائونٹس کی بینک کریڈٹ ان فلوز رپورٹ تیار کی جبکہ اکائونٹس کے حوالے سے معلومات اسٹیٹ بینک کے ذریعے حاصل کیں اور تفتیشی افسر نے نیب کے آفیسر اقبال حسن اور عبید سائمن کی موجودگی میں میرا بیان قلمبند کیا۔عدالت میں سماعت کے موقع پر استغاثہ کے تیسرے گواہ بر طرف ڈائریکٹر نادرا قابوس عزیز کا بیان بھی قلمبند کیا گیا۔

جس میں ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نادرا کی ہدایت پر 21 اگست 2017 کو نیب لاہور میں پیش ہوا، نیب کو اسحاق ڈار کے فیملی ٹری سے متعلق دستاویزات پیش کیں، اسحاق ڈار کی بیٹی صدیقہ عادل رانا کے حوالے سے پرسنل انفارمیشن بھی فراہم کی، نیب کو فراہم کردہ دستاویزات ڈیٹا بیس سسٹم سے پرنٹ کیے اور دستاویزات کے کور لیٹر پر پی ایس ٹو چیئرمین کے دستخط ہیں۔

استغاثہ کے گواہ محمد نعیم نے عدالت کو بتایا کہ نیب کی طرف سے طلبی کے بعد 22 اگست کو نیب لاہور میں پیش ہوا اور نیب کو اسحاق ڈار اور ان کی اہلیہ کے نام پر موجود گاڑیوں کی تفصیلات فراہم کیں، اسحاق ڈار کے نام پر موٹر رجسٹریشن اتھارٹی میں 3 گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئیں، 34لاکھ کی ایل زیڈ ای 19 نمبر گاڑی اسحاق ڈار نے بیوی کے نام پر منتقل کردی، ایل آر ایس 9700 نمبر کی گاڑی اسحاق ڈار نے سیدہ زہرہ منصور کے نام پر منتقل کردی۔ محمد نعیم کا کہنا تھا کہ تفصیلات فراہم کرنے کے بعد تفتیشی افسر نے میری فراہم کردہ دستاویزات کا سیزر میمو تیار کیا اور بیان بھی قلمبند کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…