بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کو کو مبینہ قتل کرنے کی دھمکیاں دینے والے گرفتار،ملزم کون ہے اور کیا چاہتاتھا؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)مقتول مشعال خان کو انصاف دلانے کیلئے متحرک سماجی رہنما کو سوشل میڈیا کے ذریعے جان سے مارنے کی مبینہ طور پر دھمکیاں دینے والے شخص کو پشاور سے گرفتار کرلیا گیا۔غیر سرکاری تنظیم (این جی او) اَویئر گرلز کی سربراہ گلالئی اسمٰعیل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا

کہ ملزم حمزہ خان نے انہیں مشعال خان قتل کیس میں انصاف کا مطالبہ کرنے پر قتل کی دھمکی دی تھی۔ملزم نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے ذریعے دیگر افراد کو بھی گلالئی اسمٰعیل کو قتل کرنے پر اکسایا تھا۔حمزہ خان کے خلاف شکایت درج کرانے کے بعد انہیں بتایا گیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے فیس بک سے ملزم کا دھمکی آمیز ویڈیو پیغام ہٹا دیا تھا۔گلالئی اسمٰعیل نے کہا کہ انہیں جون 2017 سے دھمکی آمیز پیغامات موصول ہو رہے تھے۔ابتداء میں انہوں نے ایف آئی اے سے رجوع کیا تاہم ادارے نے مشتبہ شخص کی گرفتاری کیلئے کوئی کارروائی نہیں کی جس کے بعد انہوں نے 15 نومبر 2017 کو پولیس میں مقدمہ درج کرایا۔مقدمہ درج ہونے کے بعد بھی گلالئی اسمٰعیل کو کئی افراد کی جانب سے دھمکی آمیز پیغامات ملتے رہے جن میں سے متعدد بعد ازاں فیس بک اور ٹویٹر پر جعلی ثابت ہوئے۔ایف آئی آر میں نامزد ملزم کو پشاور کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیاتاہم یہ بات سامنے آنے کے بعد اسے پیر کے روز دوبارہ گرفتار کرلیا گیا کہ اس نے صرف قتل کی دھمکی والا ویڈیو پیغام ہی جاری نہیں کیابلکہ گلالئی اسمٰعیل کی پوسٹس پر مختلف اکاؤنٹس سے کمنٹس بھی کیے۔سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) کنٹونمنٹ وسیم ریاض نے 18 سالہ حمزہ خان کو گلالئی اسمٰعیل کو دھمکی دینے پر گرفتار کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی مزید تحقیقات کی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…