بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

یہ فوج کا کام نہیں! رانا ثناء اللہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے بیان کیخلاف کھل کربول پڑے

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نیب کو دباؤ کا سامنا کر نا چاہیے ٗ اپنے معاملات کی درستگی کیلئے تنقید نہیں گھبرانا چاہیے ۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویومیں کے دور ان وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی قومی احتساب بیورو (نیب) پر تنقید سے متعلق سوال پر

وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نیب کو دباؤ کا سامنا کرنا چاہیے اور اپنے معاملات کی درستگی کیلئے تنقید سے نہیں گھبرانا چاہیے جس طرح وہ اپنے معاملات میڈیا پر جاری کرواتے ہیں اسی طرح دوسری جانب سے جو موقف میڈیا پر آئے تو اسے برداشت کرنا چاہیے۔نہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے نیب سے متعلق سازش کی جو بات کی ہے اس کی ایک وجہ نیب کا طریقے کار ہے جس پر اعتراض اٹھانے کی گنجائش بہت زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کو چاہیے کہ وہ قانون اور ضابطے کو ملحوظ خاطر رکھیں ٗنیب کا لوگوں کو صرف اس لیے بلا لینا یا نوٹس جاری کردینا کہ بریکنگ نیوز بن جائیگی اور ایسا لگے گا کہ نیب بہت بڑا کام کر رہا ہے، تو یہ عمل ٹھیک نہیں۔ایک سوال پر وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی بات سے اتفاق کرتا ہوں لیکن ان کے اس بیان پر کہ عوام کو جمہوریت کے ثمرات پہنچ رہے ہیں سے نہیں، اس بات کا فیصلہ عوام ہی کو کرنے دیا جائے اور اگر عوام کو ہی یہ فیصلہ کرنے دیا جارہا ہوتا تو آج ہمارے حالات بہت بہتر ہوتے اور الیکشن ہی جمہوریت کا ایک مرحلہ ہے جس کے ذریعے عوام اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…