بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

رائو انوار کیسے نوجوانوں کو اغوا کر کے ان کے گھر والوں سے بھاری رقمیں وصول کرتا، نجی عقوبت خانوں میں کیا ظلم ڈھائے جاتے متاثرین نے سامنے آتے ہوئے دہلا دینے والے انکشافات کر ڈالے

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معطل ایس ایس پی ملیر رائو انوار کے نجی عقوبت خانوں کا انکشاف، نوجوانوں کواغوا کے بعد رہائی کیلئے لاکھوں روپے بٹورتا رہا۔ نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق معطل ایس ایس پی ملیر رائو انوارکے نجی عقوبت خانوں کا انکشاف ہوا ہے

جبکہ نوجوانوں کو اغوا کر کے رہائی کے عوض لاکھوں روپے تاوان طلب کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ یہ بات سہراب گوٹھ میں نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاجی و تعزیتی ریفرنس سے رائو انوار کے ہاتھوں ظلم کا نشانہ بننے والے نوجوانوں کے لواحقین اور افراد نے خطاب کے دوران کئے۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ راؤ انوار نے انہیں اغوا کرکے رہائی کے عوض 4 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا، انہیں 25 دن غیرآباد علاقے میں قید رکھا گیا، راؤ انوار نے گڈاپ میں اپنے نجی عقوبت خانے بنا رکھے ہیں۔ادھر پختون قومی جرگے نے نقیب اللہ قتل کی جوڈیشل انکوائری کروانے کے لئے حکومت کو 3 دن کا الٹی میٹم دے دیا۔ جرگے کے مطابق اگر3 دن میں جوڈیشل انکوائری شروع نہ ہوئی تو سپر ہائی وے پر دھرنا دے دیا جائے گا۔ نقیب اللہ محسود کے والد سمیت دیگر اہل خانہ بھی قبائلی علاقے وزیرستان سے کراچی پہنچ گئے ہیں اور آج مقدمہ درج کروائیں گے۔ذرائع کے مطابق سہراب گوٹھ یا شاہ لطیف ٹاؤن تھانے میں مقدمہ کروایا جاسکتا ہے۔ مقدمے کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے اور نقیب کے اغوا اور قتل سمیت دیگر دفعات شامل کی جائیں گی۔دوسری جانب پتہ چلا ہے کہ شاہ لطیف ٹاؤن مقابلے میں نقیب اللہ کے ساتھ جاں بحق دیگر 3 ملزمان کے بارے میں بھی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ مقابلے میں مارے گئے نذر جان اور نسیم اللہ جنوبی وزیرستان ایجنسی کے جبکہ محمد اسحاق بہاولپور کے نواحی علاقے احمد پور شرقیہ کا رہائشی تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…